دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Fatawa Razawiyya jild 9 | فتاوی رضویہ ۹

book_icon
فتاوی رضویہ ۹

اقول: وباﷲ التوفیق ابن حبان اپنی صحیح اورحاکم مستدرك میں حضرت یزید بن ثابت انصاری برادر اکبر زید بن ثابت رضی اﷲتعالٰی عنہ سے راوی ہیں:

قال خرجنا مع رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فلما وردنا البقیع اذاھو بقبر فسأل عنہ فقالو فلانۃ فعرفھافقال الااٰذنتمونی بھا قالوا کنت قائلا صائما قال فلا تفعلوالاعرفن مامات منکم میت ماکنت بین اظھرکم الااٰذنتمونی بہ فان صلاتی علیہ رحمۃ [1]۔

یعنی ہم ہمراہ رقابِ اقدس حضور سید عالم صلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم باہر چلے جب بقیع پر پہنچے ایك قبر تازہ نظر آئی حضور پُرنورصلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم نے دریافت فرمایا: لوگوں نے عرض کی :فلاں عورت۔حضور نے انہیں پہچانا،فرمایا:مجھے کیوں خبر نہ دی؟ عرض کی :حضور دوپہر کو آرام فرماتے تھے اورحضور کاروزہ تھا۔ فرمایا :توایسا نہ کرو جب تم میں کوئی مسلمان مرے مجھے خبر کردیاکرو کہ اُس پر میرانماز پڑھنا رحمت ہے۔

ظاہر ہے کہ یہ واقعہ واقعہ حضرت سکینہ رضی اﷲتعالٰی عنہا کا غیر ہے، وہاں یہ تھا کہ اندھیری رات تھی ہمیں گوارا نہ ہوا کہ حضور کو جگائیں، یہاں یہ ہے کہ دوپہر کا وقت تھا حضور آرام فرماتھےحضور کو روزہ تھا اور دونوں حدیثوں میں وہی ارشاد اقدس ہے کہ ایسا نہ کرو ہمیں اطلاع دیا کرو۔ اب خواہ یُوں ہوکہ ایك واقعہ کےحضار اور تھے اور دوسرے واقعہ کے لوگوں کو اس حکم کی خبر نہ تھی خواہ یوں کہ صحابہ کرام رضی اﷲ عنہم نے اس امر کو ارشادی محض ،بہ نظرِ رحمت تامہ حضور رؤف رحیم علیہ افضل الصّلٰوۃ والتسلیم خیال کیا، نہ ایجابی۔ لہذا جہاں تکلیف کا خیال ہوا ادب وآرام کومقدم رکھا، بہر حال ایسے وقائع اُن سب وجوہ مذکور کے مورد ہیں۔ ایك بار کے فرمان سے ، کہ خبر دے دیا کرو، باقی بار کا اطلاع اقدس ہونا ثابت نہیں ہوسکتا،کما لا یخفی،

لاجرم طبرانی نے حصین بن وَحوَح انصاری رضی اﷲتعالٰی عنہ سے روایت کی:

ان طلحۃ بن البراء مرض، فاتاہ النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم یعودہ فقال انی لارٰی طلحۃ الا قدحدث فیہ الموت فاذنونی بہ وعجلو افلم یبلغ النبی

یعنی نبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم حضرت طلحہ بن براء رضی اﷲتعالٰی عنہ کی عیادت کے لئے تشریف لائے اور یہ فرماگئے کہ اب اُنکا وقت آیامعلوم ہوتاہے، مجھے خبر کردینا اور تجہیز میں جلدی کرنا۔حضور اقدس صلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم محلہ بنی سالم تك نہ پہنچے تھے کہ اُن کا انتقال ہوگیا اورانہوں نے رات آنے پر اپنے گھروالوں کو وصیت کردی تھی کہ جن میں مروں تو مجھے دفن کردینا اورحضور اقدس

 


 

 



[1] الاحسان بترتیب صحیح ابن حبان حدیث ٣٠٨٦ موسستہ الرسالہ بیروت ٦/٣٥

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن