30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
نے حضور اقدس صلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم کو جگانا خلافِ ادب جانا(ابن شیبہ کی روایت موصولہ میں حدیث سہل بن حنیف رضی اﷲتعالٰی عنہ سے ہے) یہ بھی خوف ہُواکہ رات اندھیری ہے زمین میں ہر طرح کے کیڑے ہوتے ہیں اس وقت حضور پُرنور صلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم کا تشریف لے جانا مناسب نہیں،قال فدفنھا[1]یہ خیال کرکے دفن کردیا)صبح حضورکو خبر ہوئی فرمایا :الم امرکم ان تؤذنونی بھا کیامیں نے تم کو حکم نہ دیا تھا کہ مجھے اس کی خبر کردینا۔عرض کی :یارسول اﷲ کرھنا ان نخرجك لیلا اونوقظک[2] یارسول اﷲصلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم! ہمارے دلوں کو گوارا نہ ہُوا کہ رات میں حضور کو باہر آنے کی تکلیف دیں یا حضور کو خوابِ راحت سے جگائیں(کہ حضورکا خواب بھی تو وحی ہے کیا معلوم کہ اس وقت حضور خواب میں کیادیکھتے سنتے ہوں) صحیح بخاری شریف میں حدیث ابی ہریرہ رضی اﷲتعالٰی عنہ سے ہے:فحقروا شانھا[3] صحیح مسلم میں انہی سے ہے :وکانھم صغرواامرھا٤[4]یعنی یہ خیال کیا کہ وہ اس قابل تھی کہ اس کے جنازہ کےلئے حضور کو جگاکر اندھیری رات میں باہر لے جائیں۔مسند امام احمد میں حدیث عامر بن ربیعہ رضی اﷲتعالٰی عنہ سے ہے حضور اقدس صلی اﷲتعالٰی علیہ و سلم نے فرمایا: فلا تفعلواادعونی لجنائزکم ٥[5] ایسا نہ کرو مجھے اپنے جنازوں کے لئے بلایا کرو۔سنن ابن ماجہ میں حدیث زید بن ثابت انصاری رضی اﷲتعالٰی عنہ سے ہےحضور نے فرمایا:
|
فلا تفعلوالااعرفن مامات منکم میت ماکنت بین اظھرکم لا اٰذنتمونی بہ فان صلاتی لہ رحمۃ [6]۔ |
ایسا کبھی نہ کرنا جب تك میں تم میں تشریف رکھوں جو شخص مرے مجھے خبر کردینا کہ میری نماز اس کے حق میں رحمت ہے صلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم۔ |
[1] المصنف لابن ابی شیبہ کتاب الجنائز ادارۃ القرآن والعلوم الاسلامیہ کراچی ٣/٣٦١،التمہید لابن عبدالبر الصلٰوۃ علی القبر رویت علی ستتہ وجوہ المکتبہ القدوسیہ لاہور ٦/٢٦٣
[2] مؤطا الامام مالك التکثیر علی الجنائز میر محمد کتب خانہ کراچی ص٢٠٨
[3] صحیح البخاری کتاب الجنائز قدیمی کتب خانہ کراچی ١/١٧٨
[4] صحیح مسلم کتاب الجنائز نور محمد اصح المطابع کراچی ١/٣١٠
[5] مسند امام احمد بن حنبل حدیث عامر بن ربیعہ دارالفکر بیروت ٣/٤٤٤
[6] سنن ابن ماجہ باب ماجاء فی الصلٰوۃ علی القبر ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص١١١،التمہید لابن عبدالبر اباحۃ الصلٰوۃ علٰی قبر الخ المکتبۃ القدوسیہ لاہور ٦/٢٧٢
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع