30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
اقول: اماالجواب فلایمس ماینحوالیہ ابوالولید فانہ لایدعی احالتہ الصّلٰوۃ المعروفۃ علیہ صلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم وانھا لاوجہ لھا حتی یثبت جوازھا ویذکر توجیھا وانمایقول ان لترکھا اوجھا ان وقع وہو کذلك ولاینافیہ ان لفعلھا ایضاوجہ اووجوھا۔ان ماذکر المجیب متمش فی الشہیدایضاوالکلام علی مذہب من یقول لایصلی علیہ اما قبول الزیادۃ فبدیھی واما انتفاع المسلیمین فکذلك وقدروی الامام الترمذی محمد بن علی عن انس رضی اﷲتعالٰی عنہ قال قال رسول اﷲ صلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم اوّل تحفۃ المومن ان یغفر لمن صلی علیہ١[1]ورواہ الدارقطنی فی الافراد عن ابن عباس رضی اﷲتعالٰی عنہما عن النبی صلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم بلفظ اوّل مایتحف بہ المومن اذادخل قبرہ
|
اقول: امام ابوالولید کا جومطمحِ نظر ہے اس سے جواب کو مس نہیں، اس لئے کوہ اسکے مدعی نہیں کہ حضورصلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم کی نماز جنازہ محال ہے، اور اس کی ادائیگی کوئی وجہ نہیں رکھتی، جوابًا اس کا جواز ثابت کیاجائے اورا س کی کوئی وجہ ظاہرکی جائے---وُہ صرف یہ فرما رہے ہیں کہ اگر سرکار کی نماز نہیں پڑھی گئی تواسکی ایك وجہ ہے--اور وہ اس طرح ہے--اب اگر ادائے نماز کی بھی ایك وجہ یا چندوجہیں ہیں تو یہ ان کے بیان کے منافی نہیں۔اورمجیب نے جو ذکر کیا ہے وُہ شہید کے بارے میں بھی کہا جاسکتا ہے-- یہ کلام ان لوگوں کے مذہب پر ہوگا جو شہید کی نمازِ جنازہ کے قائل نہیں--شہید کا زیادتی کمال کے قابل ہونا تو بدیہی ہے-- رہا مسلمانوں کا فائدہ پانا تو وہ بھی ایساہی تھا --امام ترمذی محمد بن علی حضرت انس رضی اﷲ تعالٰی سے راوی ہیں وہ فرماتے ہیں رسول اﷲصلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم کا ارشاد ہے: مومن کا سب سے پہلا تحفہ یہ ہے کہ اس کی نمازِ جنازہ پڑھنے والوں کی مغفرت کردی جاتی ہے اور اسے دارقطنی نے افراد میں حضرت ابن عباس رضی اﷲ تعالٰی عنہما کی روایت سے نبی کریم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم سے ان الفاط میں روایت کیا ہے کہ:مومن جب قبر میں |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع