30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
یہاں الصّلوۃ ھٰھنا الدعاء وقولہ صلوتہ علی المیّت ای دعاء لھم کدعاء صلٰوۃ المیت ولیس المراد صلاۃ الجنازۃ المعروفۃ بالاجماع [1] اھ مختصرا۔ |
صلٰوۃسے مراد دعا ہے اور صلٰوتہ علی المیت کامعنی یہ ہے کہ جیسے نمازِ میّت میں دُعا ہوتی ہے وہی دعا ان کے لئے کی، اور معروف نمازِ جنازہ بالاجماع مراد نہیں اھ مختصرًا(ت) |
اسی طرح وصالِ اقدس کے بعدحضور پُرنور صلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم پر جو صلٰوۃ صحابہ کرام رضی اﷲ عنہم نے ادا کی ایك جماعتِ علماء اسے بھی بمعنی درود ودعا لیتی ہے اور حدیثِ امیرالمومنین علی رضی اﷲتعالٰی عنہ سے یہی ظاہر:
|
اخرج ابن سعد عن عبداﷲ بن محمد بن عبد اﷲ بن عمر بن علی بن ابن ابی طالب عن ابیہ عن جدّہ عن علی رضی اﷲتعالٰی عنہ قال لماوضع رسول اﷲصلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم علی السریر قال الایقوم علیہ احد ھوامامکم حیًّا ومیّتًا فکان یدخل الناس رسلًا رسلا فیصلون علیہ صفاصفا لیس لھم امام ویکبرون وعلی قائم بحیال رسول اﷲ صلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم یقول السلام علیك ایھا النبی ورحمۃ اﷲ وبرکاتہ اللھم انانشھدان قد بلغ ماانزل الیہ ونصح لامتہ وجاھدفی سبیل اﷲ حتی اعزاﷲ دینہ وتمّت کلمتہ اللھم فاجعلناممن تبع ما انزل الیہ وثبتنا بعدہ واجمع بینناوبینہ فیقول الناس امین حتی صلی |
ابن سعد نے عبداﷲ بن عبداﷲ بن عمر بن علی بن ابی طالب سے تخریج کی کہ انہوں نے اپنے والد سے بواسطہ اپنے دادا علی مرتضٰی رضی اﷲتعالٰی عنہ روایت کیا یعنی جب حضور پُر نور سیّدالمرسلین صلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم کو غسل کے دے کر سریر منیر پر لٹایا حضرت مولٰی علی کرم اﷲ وجہہ نے فرمایاحضور اقدس صلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم کے آگے کوئی امام بن کے کھڑا نہ ہوکہ وہ تمہارے امام ہیں اپنی زندگی دنیاوی میں اور بعد وصال بھی۔ پس لوگ گروہ درگروہ اور پرے کے پرے حضور پر صلٰوۃ کرتے کوئی ان کا امام نہ تھا۔ علی کرم اﷲ وجہہ رسول اﷲ صلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم کے سامنے کھڑے عرض کرتے تھے:سلام حضور پر اے نبی اوراﷲ کی رحمت اوراس کی برکتیں۔ الٰہی ! ہم گواہی دیتے ہیں کہ حضور نے پہنچادیا جو کچھ ان کی طرف اتاراگیا اور ہربات میں اپنی امّت کی بھلائی کی اور راہِ خدامیں جہاد فرمایا،یہاں تك کہ ا ﷲ عزوجل نے اپنے دین کو غالب کیا |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع