30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
نے جائز رکھا۔ یہ سات۷ صورتیں ثبوت کی ہیں جن میں چار پہلے ثبوت قولی اور پانچویں فعلی اور دو باقی تقریری۔ ان میں جس ہلکی سے ہلکی، آسان سے آسان صورت پر قدرت پاؤ پیش کرواور جب جان لوکہ سب راہیں بند ہیں تو پھر شرع مطہر پرافترایا اقل درجہ احکام ا ﷲ میں بیباکی واجترا کا اقرار کرنے سے چارہ نہیں۔ مسلمان ان مجتہد صاحب سے بے ثبوت لئے نہ مانیں، اگر ساتوں وجہ سے عاجز پائیں تو اتنا دریافت کردیکھیں کہ حدیث سنن دارمی میں رسول اﷲ صلی اﷲتعالی علیہ وسلم نے فرمایا :
|
اجرؤکم علی الفتیااجرؤکم علی النار[1]۔ |
جو تم میں فتوٰی دینے پر زیادہ جری ہے آتشِ دوزخ پر زیادہ جرأت رکھتا ہے۔ |
اس میں آپ حضرات تو داخل نہیں؟ اگر بحکم آنکہ ع:
وقتِ ضرورت چونماند گریز
(ضرورت پر بھاگنے کے سوا چارہ نہیں۔ت)
مجبورًا یہ کسی واقعہ حال کا دامن پکڑلے تواتنا یاد رہے کہ واقعہ عین لاعموم لہا، وقائعِ خاصہ احکامِ عامہ نہیں ہوتے، وُہ ہرگونہ احتمال کے محل ہوتے ہیں۔
اوّلًا آپ کو ثابت کرنا ہوگا کہ پہلے اس جنازہ پر صلٰوۃ
ہوچکی تھی، مجرد استبعاد کہ بھلا صحابہ اس وقت نہ پڑھتے۔
اقول: وباﷲ التوفیق یہ
کافی نہ ہوگا کہ نمازِ جنازہ ہمیشہ سے فرض نہ تھی۔حضرت ام المومنین خدیجۃ الکبرٰی
رضی اﷲتعالٰی عنہا کے جنازہ مقدس پر اس لئے نماز نہ ہوئی کہ اس وقت تك اس کی فرضیت
ہی نہ تھی، تو ایك تو بہ سندِ صحیح یہ ثابت کیجئے کہ یہ کب،کس سال،
کس ماہ میں اس کی فرضیت اتری۔مجرد حکایات بے سند مسموع نہ ہوں گی کہ آپ مجتہد ہوکر
قیل وقال کی تقلید نہیں کرسکتے،پھر بدلیل صریح یہ مبرہن کیجئے کہ یہ واقعہ عین بعد
فرضیت ہی تھا، مجرد وقوع صلٰوۃ مفید فرضیت نہ ہوگا۔شرع میں اس کی
نظائر موجود کہ بعض افعال بلکہ خاص نماز کا قبل فرضیت وقوع ہُوا بعد کو فرضیت
اتری، جیسے اسعد بن زرارہ وغیرہ انصار کرام اہل مدینہ
رضی اﷲ تعالٰی عنہم کا قبل فرضیتِ جمعہ،جمعہ پڑھنا،
|
کمارواہ عبدالرزاق ومن طریقہ عبدبن حمید فی تفسیرہ بسند صحیح |
جیساکہ اسےعبدالرزاق نے اوران ہی کے طریق سےعبد بن حمید نے اپنی تفسیر میں بسند صحیح روایت کیا |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع