30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
فی التقریب الیہ علیہ الصلٰوۃ والسلام بانواع الطرق عنہ فھذادلیل ظاھر علیہ فوجب اعتبارہ [1]۔ |
علماء وصلحاء اور وہ بندے ہیں جوطرح طرح سے نبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کی بارگاہ میں تقرب حاصل کرنے کی رغبت رکھتے ہیں تو یہ تکرار کی مشروعی پر کھلی دلیل ہے پس اس کاا عتبار واجب ہوا۔ |
اقول: حاصل کلام یہ کہ نماز جنازہ جیسی قبل دفن ویسی بعد دفن قبر پر۔ ولہذا اگر کوئی شخص بے نماز پڑھے دفن کردیاگیا تو فرض ہے کہ اس کی قبر پر نمازِ جنازہ پڑھیں جب تك ظن غالب رہے کہ بدن بگڑ نہ گیا ہو گا اور نماز جنازہ ایك تو ہر مسلمان کاحق ہے،رسول اﷲ صلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
|
حق المسلم علی المسلم خمس وذکرمنھا اتباع الجنائز[2] وسیأتی۔ |
مسلمان کے مسلمان پر پانچ حق ہیں، ان میں نمازِ جنازہ کو بھی ذکرفرمایا، حدیث آگے آرہی ہے۔(ت) |
دوسرے مقبول بندوں کی نماز میں وہ فضل ہے کہ پڑھنے والوں کی مغفرت ہوجاتی ہے۔ ہم عنقریب انس بن مالك و عبداﷲبن جابروسلمان فارسی رضی اﷲتعالٰی عنہم سے متعدد احادیث ذکر کریں گے کہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:"مومن صالح کو پہلا تحفہ یہ دیا جاتاہے کہ جتنے لوگوں نے اس کےجنازہ کی نمازپڑھی سب بخش دئے جاتے ہیں۔اﷲ عزوجل حیا فرماتا ہے کہ اُن میں کسی پر عذاب کرے"اب اگر حق کا لحاظ کیجئے تو محمد رسول اﷲ صلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم کے حق کے برابر تمام جہان میں کس کا ہو سکتا ہے، اور فضل کو دیکھئے تو افضل المرسلین صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کے نماز پڑھنے کے برابر کس مقبول پر نماز پڑھنی ہوسکتی ہے، ہاں قبر پر نماز پڑھنے سے مانع یہ ہوتا ہے کہ اتنی مدت گزر جائے جس میں میّت کا بدن سلامت ہونامظنون نہ رہے، اسی کو بعض روایات میں دفن کے بعد تین دن سے تقدیر کیا،اور صحیح یہ کہ کچھ مدّت معین نہیں، جب سلامت وعدمِ سلامت مشکوك ہوجائے نماز ناجائز ہوجائیگی،مگر رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کے بارے میں معاذاﷲ اس کا اصلًا احتمال نہیں وہ آج بھی یقینا ایسے ہی ہیں جیسے روزِ دفن مبارك تھے۔ وہ خودارشادفرماتے ہیں صلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم:
|
ان اﷲ حرّم علی الارض ان تاکل اجسادالانبیاء [3]۔رواہ احمد وابوداؤد والنسائی |
بیشك اﷲتعالٰی نے زمین پر حرام فرمادیاہے انبیاء علیہم الصلٰوۃ والسلام کا جسم مبارك کھانا۔ |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع