30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
کثرت تھی، نماز جنازہ اگر بیرون مسجد پڑھائی جائےگی تو نہ صفیں سیدھی ہوں گی بسبب قبروں اور درختوں کے اور نہ نمازی آسکیں بسبب زیادتی کے، اور دھوپ تکلیف دی تھی روزہ داروں کو ،اس صورت مذکورہ عذرات کو مدنظر رکھتے ہوئے نمازِ جنازہ فرش مسجد پر پڑھائی جائے یا نہیں،اور ثواب ہوگا یا نہیں؟
(٢) اس شخص کے واسطے کیا حکم ہے کہ وہ جانتاہے کہ تمام مسلمانوں سے عذرات مذکورہ بالاصحیح ہیں اور اندورن مسجد جنازہ آگیا ہے اور نماز جمعہ بھی ہوچکی ہے مگر وہ جنازہ کو مسجد سے باہر کرتا ہے اور باہر کرکے نماز جنازہ پڑھاتا ہے اورجائے کی تنگی اور صفوں کی شکستگی اور روزہ داروں کے دھوپ میں کھڑے ہونے کی پروا ہ نہ کرتے ہوئے نمازیوں کی خواہش شرکت نماز جنازہ فوت کرے کیا حکم ہے؟
(٣) اگر کوئی عذر نہ ہو اور نمازِ جنازہ مسجد میں پڑھ لی جائے تو نماز ہوگی یا نہیں، اور ثواب ہوگا یا نہیں؟
(٤) اگر بعد نمازِ جمعہ نمازِ جنازہ پڑھ لی جائے تو اولٰیہے یا سنت وغیرہ پڑھنے کے بعد نماز جنازہ پڑھنا اولٰی ہے؟ بینواتوجروا۔
الجواب:
(۱) جنازہ مسجد میں رکھ کر اس پر نماز مذہب حنفی میں مکروہ تحریمی ہے،
تنویرالابصار میں ہے :
|
کرھت تحریما فی مسجد جماعۃ ھی فیہ واختلف فی الخارجۃ والمختارالکراھۃ [1]۔ |
مسجدِ جماعت میں نمازِ جنازہ مکروہ تحریمی ہے جبکہ جنازہ مسجد کے اندر ہو، اور اگر باہر ہے تواس بارے میں اختلاف ہے، مختار یہ ہے مکروہ ہے (ت) |
نماز جنازہ بہت ہلکی اور جلد ہونے والی چیز ہے اتنی دیر دھوپ کی تکلیف ایسی نہیں کہ اُس کے لئے مکروہِ تحریمی گوارا کیا جائے اور مسجد کی بے حرمتی روا رکھیں۔ رہی نماز، وہ ادا ہوجائےگی، فرض اُتر جائے گااور مخالفت حکم کاگناہ اورنفسِ نماز کا ثواب اﷲ عزوجل کے ہاتھ، جیسے کوئی مغصوب زمین میں نمازِ پنجگانہ پڑھے۔
(٢) اُس نے مذہب پر عمل کیا، جوبات مذہب میں منع تھی اُس سے روکا، نمازِ جنازہ فرض کفایہ ہے جومسلمان تنگیِ جاکے سبب نہ مل سکے اور ملنے کی خواہش رکھتے تھے اور انہیں ان شاء اﷲ العزیز ملنے ہی کا ثواب ہے۔ حدیث میں ہے: جو جماعت کی نیت سے مسجد چلا ،نماز ہوچکی ،اس کے لئے ثواب لکھ گیا۔
|
قال اﷲتعالٰی فقد وقع اجرہ علی اﷲ [2]۔ |
اﷲ تعالٰی کافرمان ہے: تواس کااجر خداکے ذمہ کرم پر ثابت ہے۔(ت) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع