30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
لم یکرہ ان یصلی الناس علیہا فی المسجد انماالکرھۃ فی ادخال الجنازۃ فی المسجد [1] ۔ |
یہ مکروہ نہیں کہ لوگ مسجد کے اندر اس کی نماز پڑھیں کراہت اسے مسجد کے اندر داخل کرنے ہی کی صورت میں ہے۔(ت) |
برجندی شرح نقایہ میں ہے :
|
کرھت صلٰوۃ الجنازۃ فی مسجد جماعۃ اتفاقا اذاوضعت الجنازۃ فیہ ولو وضع خارجہ اختلف المشائخ فیہ وذلك لان علۃ الکراھۃ اما توھم التلوث اوکون المسجد مبینا لاداء المکتوبۃ ٢[2]اھ ملخصا۔ |
مسجدجماعت میں جنازہ رکھ کر نماز جنازہ پڑھنا بالاتفاق مکروہ ہے، اور اگر جنازہ باہر رکھا ہو تواس میں مشائخ کا اختلاف ہے۔ یہ اختلاف اس لئے ہے کہ کراہت کی علّت آلودگی مسجد کا احتمال ہے یا یہ کہ مسجد فرائضِ وقتیہ کی ادائیگی کے لئے بنی ہے اھ بہ تلخیص (ت) |
شرنبلالیہ میں ہے :
|
قولہ (یعنی الغرر) کرھت فی مسجد ھو فیہ، اقول:والکرھۃ ھناباتفاق اصحابنا کمافی العنایۃ [3]۔ |
عبارت غرر ( مسجد میں جنازہ رکھا ہو تواس میں جنازہ مکروہ) میں کہتاہوں یہاں کراہت پر ہمارے مشائخ کا اتفاق ہے، جیسا کہ عنایۃ میں ہے۔(ت) |
عبارات یہاں بکثرت ہیں فیما نقلناہ کفایۃ وقد ظہربہ کل ماالقیناعلیک(اور جس قدر ہم نے نقل کردیا وُہ کافی ہے،اور اس سے وُہ ساری باتیں واضح ہوگئیں جو ہم نے بیان کیں۔ت) واﷲ سبحانہ وتعالٰی اعلم ۔
مسئلہ نمبر ٦٧ تا ٧٠: از فیروز آباد ضلع آگرہ محلہ کوٹلہ مرسلہ مسکین تاج محمد ۱۱ شوال ۱۳۳۷ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ان مسائل میں:
(۱) رمضان المبارك کے الوداعی جمعہ کو جامع مسجد میں مسلمانوں کا جنازہ آیا، نمازیوں کی بہت زیادہ
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع