30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اشباہ میں ہے :
|
منع ادخال المیت فیہ والصحیح ان المنع لصلاۃ الجنازۃ وان لم یکن المیت فیہ الا لعذر مطر ونحوہ [1]۔ |
مسجد میں میت کو لے جانا منع ہے اور صحیح یہ ہے کہ ممانعت نماز جنازہ کی وجہ سے ہے، اگرچہ میّت مسجد کے اندر نہ ہو ، مگر بارش وغیرہ کاعذر ہو تو رخصت ہے۔(ت) |
بحرالرائق میں بعد بیان مذہب مختار فرمایا:
|
وقیل لایکرہ اذاکان المیت خارج المسجد وھو مبنی علی ان الکراھۃ الاحتمال تلویث المسجد والاول ھوالاوفق لاطلاق الحدیث کذا فی الفتح القدیر [2]۔ |
اور کہا گیاکہ جب میت مسجد کے باہر ہو تو مکروہ نہیں، اس قول کی بنیاد اس پر ہے کہ کراہت کا حکم آلودگیِ مسجد کے احتمال کی وجہ سے ہے، اور پہلا قول ہی اطلاقِ حدیث کے مطابق ہے۔ ایسا ہی فتح القدیر میں ہے۔(ت) |
ہدایہ میں ہے :
|
لایصلی علٰی میت فی مسجدجماعۃ لقول النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم من صلی علٰی جنازۃ فی المسجد فلااجرلہ ولانہ بنی لاداء المکتوب ولانہ یحتمل تلویث المسجد و فیہا اذاکان المیت خارج المسجد اختلف المشائخ [3]۔ |
مسجدِجماعت میں کسی میت کی نمازجنازہ نہ پڑھی جائے گی اس لئے کہ نبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کا ارشاد ہے: جس نے مسجد میں نماز جنازہ پڑھی اس کے لئے اجر نہیں-- اور اس لئے کہ مسجد فرض نمازوں کی ادائیگی کے لئے بنی ہے—اور اس لئے اس میں مسجد کی آلودگی کا احتمال ہے۔ اور ہدایہ ہی میں ہے :جب میت مسجد کے باہر ہو تو اس میں مشائخ کا اختلاف ہے ۔ (ت) |
مبسوط امام شمس الائمہ سرخسی سے حلیہ میں ہے :
|
عندنا اذاکانت الجنازۃ خارج المسجد |
جب جنازہ مسجد کے باہر ہو تو ہمارے نزدیک |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع