30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
ہے اور اس کی نمازِ جنازہ مسجد میں پڑھنی مکروہ ہے، نہ علی العموم
الجواب:
قولِ زید صحیح ہے۔عمرو کا مریضانِ معدہ میں حصر تو محض غلط ، ہاں سیّدنا امام ابویوسف رحمہ اﷲتعالٰی علیہ کی روایت نادرہ بعض کتب میں یوں نقل کی گئی کہ خوفِ تلوّث نہ ہو تو مسجد میں جائز۔ یہ عبارت بظاہر اُس بحثِ علامہ طحطاوی کی مؤید کہ قولِ تعلیل بہ تلوث پر ظنِ تلوث سے تقیید مناسب، شبہ وتوہم مانع نہیں ۔اس عبارت وروایتِ شاذہ پر بھی امراضِ معدہ وامعاء و رحم و زخم و ریم وغیرہا ہر مظنہ تلوث بالاتفاق داخلِ کراہت ۔حلیہ میں فرمایا :
|
ونقل فی الد رایۃ عن ابی یوسف روایۃ انہ لاتکرہ صلاۃ الجنازۃ فی المسجد اذالم یخف خروج شیئ یلوث المسجد فعلی ھذا اذامن ذلك لم یکرہ علی سائرالوجوہ الخ [1] |
درایہ میں امام ابویوسف سے ایك روایت یہ نقل ہے کہ جب مسجد کو آلودہ کرنے والی کسی چیز کے نکلنے کا اندیشہ نہ ہو تو مسجد میں نمازِ جنازہ مکروہ نہیں۔ اس کی بنیاد پر جب اس سے اطمینان ہو تو تمام صورتوں میں کراہت نہیں الخ (ت) |
حاشیہ مراقی الفلاح میں ہے :
|
ینبغی تقیید الکراھۃ بظن التلویث فاما توھمہ اوشکہ فلا تثبیت بہ الکراھۃ [2]۔ |
کراہت کو آلودگی کے ظن مین مقید کرنا چاہئے اگر اس کا وہم یا شك ہو تو اس سے کراہت ثابت نہ ہوگی۔(ت) |
مگر عامہ کتبِ مذہب میں جہاں تك اس وقت نظرِ فقیر نے جولان کیا یہ روایت نوادر بھی برسبیل اطلاق وتعمیم بے تشقیق وتفصیل ماثور و منقول، جو علماء اس کے ترجیح و تصحیح واختیار کی طرف گئے جنازہ کا مسجد میں لانا مطلقًا مکروہ بتاتے ہیں۔ معللین اُسے احتمال وتواہم تلویث سے تعلیل فرماتے ہیں۔ تقیید و تخصیص حالتِ ظن کا پتا نہیں دیتے، علمائےکرام اختلافِ مشائخ کو اُس حالت سے مقید کرتے ہیں کہ جنازہ مسجد کے باہر ہو اور مطلقًا صاف تصریح فرماتے ہیں کہ جنازہ کا مسجد میں ہونا بالاتفاق مکروہ،
اقول: وباﷲ التوفیق(میں کہتا ہوں اور توفیق اﷲتعالٰی ہی سے ہے۔ت)یہاں اطلاق
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع