30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
مستحب ومندوب ہے ۔اور اس سے اصلًا ممانعت نہیں۔خودحضور پُرنور سید عالم صلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم و صحابہ کرام رضوان اﷲتعالٰی علیہم اجمعین سے قبل وبعد نماز دونوں وقت میّت کے لئے دعا فرمانا اوراس کا حکم دینا ثابت ہے،فقہائے کرام ہرگز اسے منع نہیں فرماتے، یہاں ممانعت تحریمی خواہ تنزیہی صرف دو٢ صورتوں کے لئے ہے اور وہی عبارات مذکورہ وغیر مذکورہ فقیہہ میں علی التنوع مقصود ہیں۔ ایك یہ کہ خاص دعاطویل کی غرض سے بعد نماز خواہ قبل نماز تجہیز میّت کو تعویق میں ڈالنا، مثلًا نماز ہوچکی اور کوئی حالت منتظرہ لے چلنے کے لئے باقی نہیں رہی، صرف دعا کے لئے جنازہ رکھ چھوڑیں اور درنگ وتطویل کریں یہ ممنوع ہے،اکثر عبارات اُسی طرف ناظر ہیں،دوسرے یہ کہ بعد نماز اُسی ہیئت پر بدستور صفیں باندھے امام و مقتدی وہیں کھڑے دُعاکریں یہ نامناسب ہے کہ نماز پر شبہہِ زیادت نہ ہو۔ بعض عبارات اُسی طرف ناظر ہیں، ان کے سوا تمام صور جن میں نہ خاص دُعاء کی غرض سے درنگ وتعویق کریں نہ بعد نماز اُسی انداز میں ہو بلکہ صفیں توڑ کر دعاءِ قلیل یا بوجہ دیگر جنازہ میں دیر کی حالت میں دعاء طویل اصلا مضائقہ نہیں رکھتے، نہ کلماتِ علماء میں اس کا انکار ،بلکہ وہ عام مامور بہ کے حکم میں داخل اور مستحب شرعی کا فرد ہے۔ یہ رسالہ بمبئی مطبع گلزار حسینی میں چھپ کر شائع ہوچکا۔ ان تمام مراتب کی تفصیل تام اُسی رسالہ اور اُس کے پہلے کے فتوٰی میں ملے گی۔ کشف الغطاء میں بعد ذکر عبارات قنیہ وغیرہا فرمایا:
|
فاتحہ و دعابرائے میت پیش ازدفن درست است وہمیں است روایت معمولہ، کذا فی الخلاصۃالفقہ [1]۔ واﷲ تعالٰی اعلم |
میت کے لئے دفن سے قبل فاتحہ ودعا درست ہے اوریہی روایت معمول بھا ہے۔ایسا ہی خلاصۃ الفقہ میں ہے(ت) واﷲ تعالٰی اعلم |
مسئلہ نمبر٦٦: ازبنارس محلہ کندی گڑٹولہ مسجد بی بی راجی شفاخانہ ٦جمادی الاخرۃ ١٣١٢ھ
بخدمت لازم البرکۃ جامع معقول ومنقول، حاوی فروغ واصول جناب مولانا مولوی احمد رضا خاں صاحب مداﷲ فیضانہ از جانب خادم الطلبہ عبدالغفور ، سلام علیك قبول باد۔کچھ مسائل میں یہاں علماء کے درمیان اختلاف ہے لہذا مسئلہ ارسال خدمت لازم البرکۃ ہے امید ہے کہ جواب سے مطلع فرمائیں، زید کہتا ہے نمازِجنازہ عندالحنفیہ اندر مسجد کے پڑھنی علی العموم خواہ میّت مرض ہیضہ اسہال میں مرا ہو یا دوسرے مرض میں بچند وجوہ مکروہ ہے۔ منجملہ اسکے ایك وجہ تلویثِ مسجد ہے۔ عمرو کہتا ہے جو شخص مرض ہیضہ اسہال یا کسی اور مرض امراضِ معدہ کی وجہ سے مرا اُس کا جنازہ مسجد میں پڑھنا البتہ موجب احتمال تلوث مسجد کا
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع