30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
فرمایا:
|
لا تعد لمافعلت اذاصلیت الجمعۃ فلاتصلھا الصلاۃ حتی تکلم او تخرج فان رسول اﷲ صلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم امرنا بذلك ان لانوصل صلٰوۃ بصلٰوۃ حتی نتکلم او نخرج [1]۔ |
اب ایسا نہ کرنا جب جمعہ پڑھو تو اُسے اور نماز سے نہ ملاؤ یہاں تك کہ بات کرو یا اس جگہ سے ہٹ جاؤ کہ ہمیں حضور پُر نورسیّد المرسلین صلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم نے حکم فرمایا کہ ایك نماز دوسری نماز سے نہ ملائیں یہاں تك کہ کچھ گفگو کریں یا جگہ سے ہٹ جائیں |
علماء فرماتے ہیں وصل سے نہیں اس لئے ہے کہ ایك نماز دوسری نماز کا تمہ نہ معلوم ہو، جمعہ میں دو٢ رکعت پر زیادت نہ موہوم ہو۔امام اجل ابو زکریا نووی منہاج میں فرماتے ہیں:
|
افضلہ التحول الٰی بیتہ والا فموضع اٰخر من المسجد اوغیرہ لیکثر مواضع سجود ولتنفصل صورۃ النافلۃعن صورۃ الفریضۃ [2]۔ |
بہتر تو یہ ہے کہ گھر جاکر پڑھے، ورنہ مسجد ہی میں یا بیرونِ مسجد کسی اور جگہ پڑھے تاکہ اپنی سجدہ گاہوں کی تعداد بڑھا سکے اور تاکہ نفل کی صورت فرض کی صورت سے جُدا ہوجائے۔(ت) |
مولانا علی قاری مراقاۃ میں فرماتے ہیں :
|
(اذا صلیت الجمعۃ ) ھی مثال اذغیرہا کذلک، ویؤیدہ ما یاتی من حکمۃ ذلك کذا ذکر الجمعۃ بعد خصوص الواقعۃ للتاکید الزائد فی حقھا، لاسیما ویوھم انہ یصلی اربعا وانہ الظہر، وھذا فی مجتمع العام سبب للایھام (فلاتصلھا، بصلٰوۃ |
(جب نمازِ جمعہ پڑھو) یہ بطورِ مثال ہے اس لئے کہ غیرجمعہ کا بھی یہی حکم ہے، اس کی تاکید اس سے ہوتی ہے جو اس کی حکمت بیان کی گئی ہے-- اسے ابن حجر نے ذکر کیا-- اور ہوسکتا ہے کہ جمعہ کا ذکر اس لئے ہوکہ اس کے بارے میں زیادہ تاکید ہے، خصوصًا اس میں یہ وہم ہوسکتا ہے کہ وہ چار رکعت ظہر پڑھ رہا ہے-- اور یہ فعل مجمع عام میں وہم پیداکرنے کا سبب ہوگا--(تو اسے اور نماز سے نہ ملاؤ |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع