30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
نوع یازدہم: تمام جہان کے لوگوں نے حضوراکرم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کے مزار انوارپر نمازچھوڑدی، اگریہ نمازبطور نفل جائزہوتی توتمام مسلمان اس سے اعراض نہ کرتے۔ |
٣٣٩ |
جس امر سے مصطفی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم بے عذرمانع بالقصداحترازفرمائیں وہ مشروع نہیں ہوسکتا۔ |
٣٤٦ |
|
یہ نوع نوحوالہ جات پرمشتمل ہے۔ |
٣٣٩ |
دوسرے شہر کی میت پر صلوٰۃ کاذکرصرف تین واقعوں میں روایت کیا جاتا ہے۔ |
٣٤٦ |
|
امام اعظم رضی اﷲ تعالٰی عنہ کی نمازجنازہ متعدد بارہونے کی توجیہ۔ |
٣٤٠ |
نجاشی، معٰویہ لیثی اور شہدائے موتہ رضی اﷲ تعالٰی عنہم پرغائبانہ نماز کی توجیہ۔ |
٣٤٦ |
|
حضرت امام شافعی نے امام اعظم کے مزارکے قریب نمازفجرپڑھائی تواحترامًا بسم اﷲ آواز سے نہ پڑھی، نہ رفع یدین کیا اور نہ قنوت پڑھی۔ |
٣٤٠ |
واقعہ بئرمعونہ |
٣٤٦ |
|
امام اعظم رضی اﷲ تعالٰی عنہ کے جنازے کے لیے اتنی خلقت جمع ہوگئی جس کا شمارخداہی جانتاہے۔ |
٣٤١ |
حضرت نجاشی کے وصال کا واقعہ۔ |
٣٤٧ |
|
امام اعظم رضی اﷲ تعالٰی عنہ کی نمازجنازہ چھ بارہوئی آخری بار آپ کے صاحبزادے حضرت حماد نے پڑھی۔ |
٣٤١ |
صحابہ کرام رضی اﷲ تعالٰی عنہم کو یہی ظن تھا کہ نجاشی کاجنازہ حضورعلیہ الصلوٰۃ والسلام کے سامنے حاضرہے۔ |
٣٤٧ |
|
جواب سوال دوم |
٣٤١ |
نجاشی کاجنازہ حضوراقدس صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کے لیے ظاہرکردیاگیا، حضور صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے اسے دیکھا اور اس پر نمازپڑھی۔ |
٣٤٨ |
|
مذہب حنفی میں جنازہ غائب پرمحض ناجائزہیے اور ائمہ حنفیہ کا اس کے عدم جواز پر اجماع ہے۔ |
٣٤١ |
حضرت معٰویہ بن معٰویہ مزنی رضی اﷲ تعالٰی عنہ کے انتقال اور جنازہ کا واقعہ۔ |
٣٥٣ |
|
تئیس٢٣ حوالہ جات سے مسئلہ مذکورہ کی تائید۔ |
٣٤١ |
حضرت معٰویہ رضی اﷲ تعالٰی عنہ کے غائبانہ نمازجنازہ والی حدیث ائمہ حدیث کے نزدیك ضعیف ہے۔ |
٣٥٤ |
|
صحت نمازجنازہ کی شرط یہ ہے کہ میت مسلمان ہو، طاہرہو اور جنازہ نمازی کے آگے زمین پررکھاہو۔ |
٣٤٢ |
بقیہ بن ولید مدلّس ہے۔ |
٣٥٤ |
|
ہمارے نزدیك غائب اور عضو پر نمازصحیح نہیں اور شہید کی نمازجنازہ پڑھی جائے گی۔ |
٣٤٤ |
ابن حبان نے نوح بن عمروکوحدیث کا چوربتایا۔ |
٣٥٤ |
|
کسی حدیث صحیح صریح سے ثابت نہیں کہ حضورپرنورصلی اﷲ تعالٰی علیہ سلم نے غائبانہ نمازجنازہ پڑھی۔ |
٣٤٦ |
محبوب بن ھلال مجہول ہے۔ |
٣٥٧ |
|
|
|
امام نووی نے علاء بن یزید ثقفی کوضعیف، امام بخای نے منکرالحدیث، ابوحاتم ودارقطنی نے متروك الحدیث اور امام علی بن مدینی نے دل سے حدیثیں گھڑنے والاکہا۔ |
٣٥٧ |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع