30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
ابن عباس رضی اﷲتعالٰی عنہما وصححہ ورمز الامام السیوطی لصحتہ۔ |
رضی اﷲتعالٰی عنہما سے روایت کیا اور اسے صحیح کہا۔امام سیوطی نے بھی اس کے صحیح ہونے کا نشان (رمز)لگایا۔ |
حدیث ۲: فرماتے ہیں صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم :
|
اذاسأل احدکم فلیکثر فانما یسأل ربہ [1]۔ ابن حِبّان فی صحیحہ والطبرانی فی الاوسط عن ام المؤمنین الصدیقۃ رضی اﷲتعالٰی عنہا بسند صحیح ۔ |
جب تم میں سے کوئی شخص دعا مانگے تو بکثرت کرے کہ اپنے رب سے ہی سوال کررہا ہے۔اسے ابن حبان نے اپنی صحیح میں اور طبرانی نے معجم اوسط میں ام المومنین صدیقہ رضی اﷲتعالٰی عنہا سے بسند صحیح روایت کیا۔ |
اقول: یہ حدیث سوال و مسئول دونوں میں تکثیر کی طرف ارشاد فرماتی ہے۔مسئول میں یوں کہ بہت کچھ مانگے، بڑی چیز مانگے کہ آخر ربِّ قدیر سے سوال کرتا ہے، اور سوال میں یوں بار بار مانگے، بکثرت مانگے کہ آخر کریم سے مانگ رہاہے، وہ تکثیر سوال سے خوش ہوتاہے بخلاف ابن ِ آدم کے کہ باربار مانگنے سے جھنجھلا جاتاہے فللّٰہ الحمد وحدہ(تو خدائے یکتا ہی کے لئے ساری خوبیاں ہیں۔ت)
حدیث ٣: فرماتے ہیں صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم :
|
اکثر من الدعاء فان الدعاء یرد القضاء المبرم[2] ۔ابوالشیخ عن انس رضی اﷲتعالٰی عنہ۔ |
دعا بکثرت مانگ کر دُعا قضائے مبرم کو ٹال دیتی ہے۔اسے ابوالشیخ نے حضرت انس رضی اﷲتعالٰی عنہ سے روایت کیا۔ |
اقول: اس معنی کی تحقیق کہ یہاں قضاء مبرم سے کیا مراد ہے،فقیر نے اپنے رسالہ ذیل المدعٰیلاحسن الوعاء میں ذکر کی۔
حدیث ۴: فرماتے ہیں صلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم :
|
لقد بارك اﷲلرجل فی حاجۃ اکثرالدعاء فیھا [3]۔البیہقی فی الشعب والخطیب |
بیشك اﷲتعالٰی نے برکت رکھی آدمی کی اس حاجت میں جس میں وُہ دعا کی کثرت کرے۔اسے بیہقی نے |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع