30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اس حدیث سے افضل کی آمد کے وقت قیام کا مستحب ہوناثابت ہوتا ہے-- اور یہ قیامِ ممنوع سے جدا ہے اس لئے کہ وُہ قیام بمعنی وقوف ہے اور یہ بمعنی نہوض (اٹھنا) ہے—طیبی شارح مشکوٰۃ نے فرمایا: یہ قیام ممنوع سے نہیں، وہ تو ان لوگوں کے بارے میں ہے جو کسی کے بیٹھے رہنے کی حالت میں جب تك وُہ بیٹھا رہے اُس کے سامنے سیدھے کھڑے رہتے ہیں(ت)پس عبارات اسی منع تطویل دعاکی طرف راجع ہیں جس کے باعث امر تجہیز وتعویق میں پڑے، ورنہ اگر کلماتِ یسیرہ کہے جائیں جیسا سوال میں مذکور یا ہنوز جنازہ لے چلنے میں کسی اورضرورت سے دیر ہو اور ایسی حالت میں دعائے تطویل کرتے رہیں تو ہرگز زیرِمنع داخل نہیں کہ صورتِ اولٰیمیں تاخیر ہی نہیں اور ثانیہ میں، تاخیر بوجہ آخر ہے، نہ بغرضِ دعا۔ ولہذا فقہائے کرام نے لایقوم للدعاء(دعاکے لئے نہ ٹھہر۔ت) فرمایا نہ لایدعو قائما(ٹھہرنے کی حالت میں دُعا نہ کرے۔ت)یا لایدعوبعدھا اصلا(بعد جنازہ بالکل دعا نہ کرے۔ت) لاجرم حدیث سے ثابت کہ صحابہ کرام رضی اﷲتعالٰی عنہم نے امیر المومنین عمرفاروق اعظم رضی اﷲتعالٰی عنہ کے جنازہ مبارك کے گرد ہجوم کیا اور چار طرف سے احاطہ کرکے کھڑے ہوئے اور امیرالمومنین رضی اﷲ تعالٰی عنہ کے لئے دعائیں کرتے رہے۔ یہاں تك کہ امیرالمومنین مولٰی علی کرم اﷲ تعالٰی وجہہ الکریم بھی اس مجمع میں شامل اورامیر المومنین شہید رضی اﷲتعالٰی عنہ کے دعاء وثناء میں شریك ہوئے ۔صحیح بخاری و صحیح مسلم میں عبداﷲ بن عباس رضی اﷲتعالٰی عنہما سے مروی:
|
واللفظ لمسلم وضع عمربن الخطاب علی سریرہ فتکنفہ الناس یدعون ویثنون ویصلون علیہ قبل ان یرفع، وانا فیھم قال فلم یرعنی الارجل قداخذ بمنکبی من ورائی فالتفت الیہ فاذاھوعلی فترحم علی عمر وقال ماخلفت احدا احب الی ان القی اﷲبمثل عملہ منك وایم اﷲ ان کنت لاظن ان یجعلك اللہ مع صاحبیك [1]۔ وفی |
یعنی امیر المومنین فاروق اعظم رضی اﷲتعالٰی عنہ کا جنازہ رکھا تھا ، لوگ چارطرف سے احاطہ کئے ہوئے اُن کے لئے دُعاوثناء میں مشغول تھے ، میں بھی اُنہیں دُعا کرنے والوں میں کھڑا تھا ناگاہ ایك شخص نے پیچھے سے آکر میرے شانے پر کہنی رکھی میں نے پلٹ کر دیکھا تو علی مرتضٰی کرم اﷲ وجہہ تھے۔جنازہ شریفہ کی طرف مخاطب ہوکر بولے: اﷲآپ پر رحم فرمائے آپ نے اپنے بعد کوئی ایسا نہ چھوڑا جو مجھے آپ سے زیادہ پیاراہوکہ میں اُس کے سے |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع