30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
سیوطی نے اس کی تصریح فرمائی ہے۔ت) بعدنماز جنازہ میت کے لئے نفسِ دعا پر انکار نہ فرمایا بلکہ تطویلِ دعا کی ممانعت فرمائی کہ منافی تعجیل ہے بعض فتاوٰی میں کہ واقع ہوا لایقوم داعیالہ، لایقوم للدعاء بعد صلٰوۃ الجنازۃ(دعاکرتے ہوئے کھڑا نہ ہو--یا--بعد نماز جنازہ دعاکے لئے کھڑانہ ہو۔ت) بعض علماء نے اُسے منع قیام، بمعنی انتصاب، پر محمول کرکے بیٹھ کر دعاکو، اس ممانعت میں داخل نہ ہونے کا استظہار کیا۔
|
کما نقل عن بعضھم بمانصہ چوں منع درکتب بلفظ قیام واقع شدہ شاید کہ دراں اشارت باشدباآں کہ ا گر نشستہ دُعاکند جائز باشد[1]۔ |
جیسا کہ بعض سے منقول ہے عبارت یہ ہے:چونکہ کتابوں میں لفظِ قیام کے ساتھ ممانعت آئی ہے اس لئے ہوسکتا ہے کہ اُس وقت یہ اشارہ کہ اگر بیٹھ کر دُعا کرے تو جائز ہے (ت) |
بلکہ کراہت اس قدر سے بھی اطلاق منع مانعین میں خلل واقع،وانا اقول: وباﷲالتوفیق(اور میں کہتا ہو ں اور یہ اﷲ کی توفیق سے ہے۔ت) قیام، ان کلماتِ علماء میں بمعنی توقف ودرنگ ہے کہ ان معنی مین بھی اس کا استعمال شائع،
|
قال تعالی حَسُنَتْ مُسْتَقَرًّا وَّ مُقَامًا ﴿۷۶﴾ [2] ای موضع قرار،لامحل انتصاب، اذلامحل لہ، وکذاقولہ تعالٰی حاکیا عن الکفار یٰۤاَہۡلَ یَثْرِبَ لَا مُقَامَ لَکُمْ[3] وقال تعالٰی یُقِیۡمُوۡنَ الصَّلٰوۃَ [4] ای یواظبون علیھا ومنہ اسمائہ تعالٰی القیوم القیام والقیم بمعنی الدائم القیام بتدبیر الخلق[5]۔ومنہ حدیث فی معجزاتہ صلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم لولم تکلہ لقام لکم [6] ای دام وثبت ولم ینفذ و |
باری تعالٰی کا ارشاد ہے: جنت کیا ہی عمدہ ٹھکانہ اور مقام ہے۔ مقام کا معنی ٹھہرنے کی جگہ، کھڑے ہونے کی جگہ نہیں اس لئے کہ اس کا موقع نہیں۔ اسی طرح قولِ کفار کی حکایت فرماتے ہوئے ارشادِباری ہے: اے اہل یثرب! تمہارے لئے مقام نہیں یعنی جائے قرار نہیں-- اور ارشاد باری ہے: نماز قائم کرتے ہیں۔یعنی اس پر مداومت کرتے اور ہمیشگی برتتے ہیں-- اور اس سے باری تعالٰی کے اسماء قیوم، قیّام،قیم ہیں--یعنی |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع