30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
الاشتباہ علی الداخل المعاین الکل فی الصلاۃ الیعید عن الامام ولماروینا من حدیث ابی ھریرۃ رضی اﷲتعالٰی عنہ ف وھذافی الذخیرۃ انہ روی عن محمد ومشی علیہ رضی الدین فی المحیط ناصّا علی انہ السنۃ[1]۔اھ |
تاکہ ایسے شخص کو شبہہ نہ ہوجو بعد میں آئے اور سب کو نماز میں دیکھے، اور اما م سے دور ہو۔ اور اس حدیث کی وجہ سے بھی جو ہم نےحضرت ابوہریرہ رضی اﷲتعالٰی عنہ سے روایت کی --اورذخیرہ میں یہ ہے کہ یہ امام محمد سے روایت ہے اور اسی پر محیط میں رضی الدین نے مشی فرمائی اس تصریح کے ساتھ کہ یہی سنّت ہے اھ (ت) |
ثم اقول:یہ بھی لحاظ لازم کہ صرف اس دُعا کی غرض سے جنازہ اٹھانے کو تعویق ودرنگ میں نہ ڈالیں کہ یہاں شرعًا تعجیل مامور ہے اور دُعا کچھ تعویق پر موقوف نہیں، اتنے کلمات اللھم لا تحرمنا اجرہ ولاتفتنا بعدہ واغفرلنا ولہ،بلکہ اس سے زائد جنازہ اٹھاتے اٹھاتے کہہ سکتے ہیں کما لایخفی(جیسا کہ پوشیدہ نہیں۔ت)امام ابن حاج مکی مدخل میں فرماتے ہیں:
|
ان بعض من یعتنون بہ من الموتی یترکونہ بعدان یصلی علیہ فی المسجد ویقفون عندہ، ویطولون الدعاء وبعضھم یفعل ماھواکثر من ذلك وھوتکبیرالمؤذنین اذذاك علی ماتقدم من زعقاتھم ویطولون فی ذلک، والسنۃ التعجیل بالمیّت الٰی دفنہ ومواراتہ وفعلھم یضدذلک، فلیحذرمن ھذا واﷲالمستعان[2]۔ |
انہیں جس مُردے سے اعتنا ہوتا اُسے نمازِ جنازہ پڑھنے کے بعد مسجد میں چھوڑ دیتے ہیں اور اس کے پاس ٹھہر کر دیر تك دُعا کرتے ہیں، اور بعض اس سے زیادہ کرتے ہیں، وہ یہ کہ اُس وقت مؤذنین تکبیر کہتے ہیں جیسا کہ ان کی بلند بانگوں کاذکر پہلے ہوچکا ہے۔اور اس میں طول دیتے ہیں۔ جب کہ سنت یہ ہے کہ میّت کو لے جاکرجلد دفن کریں اور ان لوگوں کا عمل اس کے برخلاف ہے، تواُس سے بچنا چاہئے ۔اور خدا ہی سے مدد طلبی ہے۔(ت) |
دیکھو ان امام نے بآنکہ انکار حوادث میں مبالغہ شدیدہ رکھتے ہیں یہاں تك کہ بعض جگہ حد سے تجاوز واقع ہوگیا،کما نص علیہ الامام المحقق جلال الملۃ والدین السیوطی(جیساکہ امام محقق جلال الدین
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع