30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
داﷲ دعوۃ مستجابۃ[1]،وفی الباب احادیث اخر اوردنا بعضہا فی رسالتنا سرورالعیدالسعیدفی حل الدعاء بعد صلاۃ العید(١٣٠٧ھ) |
دعا مقبول ہوتی ہے--اس باب میں اور بھی حدیثیں ہیں جن میں سے کچھ ہم نے اپنے رسالہ سرور العیدالسعیدفی حل الدعاء بعد صلاۃ العید (١٣٠٧ھ) میں نقل کی ہیں۔ |
خود رب العزت عزوجل ارشاد فرماتا ہے :
|
فَاِذَا فَرَغْتَ فَانۡصَبْ ۙ﴿۷﴾ وَ اِلٰی رَبِّکَ فَارْغَبْ ٪﴿۸﴾ [2]۔ |
جب تو نماز سے فارغ ہو تودُعا میں مشقت کر اور اپنے رب کی طرف زاری وتضرع کے ساتھ راغب ہو(ت) |
جلالین میں ہے :
|
فاذا فرغت من الصلوۃ فانصب اتعب فی الدعاوالی ربك فارغب تضرع[3]۔ |
جب تونماز سے فارغ ہوتودعامیں مشقت کراوراپنے رب کی طرف زاری وتضرع کے ساتھ راغب ہو۔(ت) |
بالجملہ دُعائے مذکور کے جواز میں شك نہیں، ہاں دفعِ احتمالِ زیادت کو نقضِ صفوف کرلیں اسی قدر کافی ہے کہ اس کے بعد احتمالِ زیادت کا اصلًا محل نہیں ہے، جس طرح بعدِ ختمِ نمازِظہر ومغرب و عشاء ادائے سنن کے لئے مقتدیوں کو کسرِ صفوف مسنون، کہ اس کے بعد کسی آنے والے کو بقائے جماعت کا احتمال نہیں ہوسکتا۔علامہ محمد محمد محمد ابن امیر الحاج حلبی حلیہ میں فرماتے ہیں :
|
لفظ البدائع اما المقتد ون فبعض مشائخنا قالوالاحرج فی ترك الانتقال لانعدام الاشتباہ علی الداخل عندمعاینۃ فراغ مکان الامام عنہ، وروی عن محمد انہ قال مستحب للقوم ایضا ان ینقضوا الصفوف ویتفرقوا لیزول |
بدائع عبارت یہ ہے : رہا مقتدیوں کا حکم توہمارے بعض مشائخ نے فرمایا وُہ اگراپنی جگہ سے نہ ہٹیں تو کوئی حرج نہیں اس لئے کہ آنے والا جب امام کی جگہ خالی دیکھ لے گا تو اسے بقائے جماعت کا شبہہ نہ رہ جائےگا۔ اور امام محمد سے روایت ہے کہ اُنہوں نے فرمایا:قوم کے لئے بھی مستحب ہے کہ صفیں توڑدیں اور منتشر ہوجائیں |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع