30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
ثم الثالث عندنا توثیق الواقدی کما افادہ المحقق حیث اطلق فی الفتح ثم الاصل فی الالفاظ الشرعیۃ فالصلٰوۃ حملھا علی معانیھا الشرعیۃ فالصلٰوۃ غیرادعاء ثم التاسیس خیرمن التاکید فالدعاء غیرالصلٰوۃ۔ |
حجت ہے—پھر ہمارے نزدیك ثابت یہی ہے کہ امام واقدی ثقہ ہیں جیسا کہ امام محقق علی الاطلاق نے فتح القدیر میں افادہ فرمایا--پھرالفاظ شرعیہ میں اصل یہ ہے کہ اپنے شرعی معانی پر محمول ہوں تو صلاۃ ، غیردعا ہے--پھر تاسیس(از سرنو کوئی افادہ) تاکید سے بہتر ہے، تو دعا،غیرصلاۃ ہے۔(ت) |
پھر جب دُعا مستحب اور مطلقًا مستحب اوراکثار مستحب اورقبل نماز بعد نماز ہرطرح مستحب، توبعد نماز متصلًا اس سے کون مانع، بلکہ یہ وقت تو خاص مظنہ نفحاتِ ربانیہ ہے کہ عمل صالح خصوصًا نماز حالتِ رحمت ورحمتِ الٰہی سبب اجابت، ولہذا دُعا سے پہلے تقدیم عمل صالح مطلوب ہوئی،
|
کما فی الحصن قال القاری وتقدیم عمل صالح ای قبل الدعاء لیکون سببالقبولہ کما فی حدث ابی بکر رضی اﷲتعالٰی عنہ فی صلٰوۃ التوبۃ علی ماسیاتی فی اصل الکتاب ورواہ الاربعۃ وابن حبان[1]۔ |
جیسا کہ حصن حصین میں ہے -- اس کی شرح میں مولانا علی قاری نے فرمایا: عمل صالح کی تقدیم، یعنی دُعا سے قبل نیك کام کی بجا آوری تاکہ قبولِ دعاء کا سبب ہو، جیسا کہ نمازِ توبہ میں حضرت ابوبکر رضی اﷲتعالٰی عنہ کی حدیث میں ہے، جیسا کہ اصل کتاب حصن حصین میں آرہا ہے اور اسے اربعہ(ابوداؤد ، ترمذی، نسائی ، ابن ماجہ)اور ابن حبان نے روایت کیا۔(ت) |
ولہذا ختمِ قرآن واتمامِ صوم ونمازِ پنجگانہ بلکہ ہر نمازِ مفروض بلکہ ہر فرض کے بعد دعا کی ترغیب احادیث میں آئی ہے جن میں نمازِ جنازہ بھی قطعًا داخل،
|
الترمذی وحسنہ والنسائی عن ابی امامۃ رضی اﷲتعالٰی عنہ قال قالت یارسول اﷲای الدعاء اسمع قال جوف اللیل الاخر ودبرالصلوات المکتوبات[2] قال |
ترمذی بافادہ تحسین اور نسائی حضرت ابوامامہ رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے راوی ہیں ، وہ فرماتے ہیں میں نے عرض کیا یارسول اﷲ! کون سی دُعا سُنی جانے والی ہے؟ فرمایا: وُہ جواخیر شب کے درمیان ہو اور فرض |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع