30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
اقول: وھو وان کان مرسلابطریقتہ فالمرسل حجۃ عندنا وعندالجمہور |
اقول: یہ حدیث اگرچہ اپنے دونوں طریقوں مُرسل ہے مگر مُرسل ہمارے نزدیك اور جمہور کے نزدیک |
|
(بقیہ حاشیہ صفحہ گزشتہ) بمبئی آمدہ بود عبارتش ازیں مقام اینست۔ |
سے آیاتھا اس جگہ سے اس کی عبارت یہ ہے |
اگر اس پر بھی تسلی نہ ہو تو زیادہ صریح لیجئے،کبیری شرح منیہ عبداﷲبن ابی بکر سے روایت ہے :
|
قال لما التقی الناس بموتۃ جلس رسول اﷲصلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم علی المنبر وکشف لہ مابینہ وبین الشام فھوینظرالٰی معترکھم فقال علیہ الصلٰوۃ والسلام اخذالرایۃ زید بن حارثۃ فمضی حتی استشہد وصلی علیہ ودعا لہ وقال استغفروالہ دخل الجنۃ وھویسعی ثم اخذ الرایۃ جعفر بن ابی طالب فمضی حتی استشھد وصلی علیہ رسول اﷲتعالٰی علیہ وسلم ودعالہ وقال استغفروا لہ دخل الجنۃ فھو یطیر فیھا بجنا حین حیث شاء [1]۔
|
جب مقامِ موتہ میں لڑائی شروع ہوئی رسول اﷲ صلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم منبر پر تشریف فرما ہوئے اور اﷲعزوجل نے حضور صلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم کے لئے پردے اُٹھا دئےکہ ملك شام اور وہ معرکہ حضور صلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم دیکھ رہے تھے، اتنے میں حضور اقدس صلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا: زید بن حارثہ نے جھنڈا اٹھایا ور لڑتا رہا یہاں تك کہ شہید ہوا۔حضور صلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم نے انہیں اپنی صلاۃ ودعاء سے مشرف فرمایا اور صحابہ کو ارشاد ہوا اس کے لئے استغفار کرو، بیشك وُہ دوڑتاہوا جنت مین داخل ہوا۔حضور صلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا: پھرجعفر بن ابی طالب نے علم اُٹھایا اور لڑتا رہا یہاں یك کہ شہید ہوا،حضور صلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم نے ان کو اپنی صلاۃ ودُعا سے شرف بخشا اورصحابہ کوارشاد ہوا اس کے لئے استغفار کرو وہ جنت میں داخل ہوا اور اس میں جہاں چاہے اپنے پروں سے اڑتا پھرتاہے۔(ت) |
اسی حدیث شریف سے صاف ظاہر ہے کہ آپ نے بعد نماز جنازہ کے دعا کی ہے اور صحابہ کرام کو بھی آپ نے امر فرمایا ہے پس صورتِ مسئولہ کے جواز میں کیا کلام رہا انتہی منہ ١٢رضی اﷲتعالٰی عنہ(م)
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع