30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
وتعالٰی اعلم۔ |
خوب جاننے والا ہے(ت) |
مسئلہ نمبر۶۳: ازبمبئی جاملی محلہ مکان حاجی محمد صدیق جعفر مرسلہ مولوی محمد عمر الدین صاحب ۳ جمادی الاولٰی ۱۳۱۱ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین کہ بعد نمازِ جنازہ کے صفوف توڑ کر یہ دُعا اللھم لاتحرمنا اجرہ ولاتفتنا بعدہ واغفرلنا ولہ یامثل اس کے کی جاتی ہے جیسا کہ بمبئی اور اس کے اطراف مانند مالا گاؤں وغیرہ بلاد میں قدیم الایام سے متعارف ومتعامل درست ہے یا نہیں؟ اور برتقدیر جواز بعض اشخاص جواس کو حرام و ممنوع کہتے ہیں ان کا قول صحیح ہے یا نہیں؟ بینواتوجروا
الجواب:
|
بسم اﷲالرحمٰن الرحیم، الحمدﷲ مجیب الدعوات وافضل الصلٰوۃ واکمل التحیات علی معاذ الاحیاء ومعادالاموات خالص الخیر ومحض البرکات فی الحٰی وۃ الاولی والحٰی وۃ العینی بعد الممات وعلٰی اٰلہ وصحبہ کریمی الصفات ما بعد ماض وقرب اٰت اٰمین۔ |
اﷲ کے نام سے شروع جو نہایت مہربان رحم والا ۔اوربہتر دروداورکامل تر تحیتیں ان پر جو زندوں کی پناہگاہ، مردوں کا مرجع، خالص خیراورمحض برکات ہیں، دنیا کی زندگی میں بھی، اور بعد موت کی بالاتر زندگی میں بھی، اور ان کی آل واصحاب پربھی، جوبزرگ صفات والے ہیں، جب تك کہ گزرا ہوا دوراورآنے والا قریب ہوتا رہے۔الٰہی قبول فرما!(ت) |
اموات مسلمین کے لئے دُعاقطعًا محبوب وشرعًا مندوب جس کی ندب وترغیب مطلق پر آیات و احادیث بلاتوقیت و تخصیص، ناطق تو بلاشبہہ ہر وقت اُس پر حکم جواز صادق، جب تك کسی خاص وقت ممانعت شرع مطہر سے ثابت نہ ہو مطلق شرعی کواز پیش خویش موقّت اور مرسل کو مقید کرنا، تشریع من عند النفس ہے اور نماز ہر چند اعظم واجل طرق ہے مگر اُس پر اقتصار کا حکم نہ اُس کے اغناد پرجزم، بلکہ شرع مبارك وقتًا فوقتًا بکثرت اور باربار تعرض نفخاتِ رحمت کا حکم فرماتی ہے کیا معلوم کس وقت کی دعا قبول ہوجائے۔ صحیح حدیث میں حضور اقدس صلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا:
|
لیکثرمن الدعا[1]اخرجہ الترمذی والحاکم عن ابی ھریرہ رضی اﷲتعالٰی عنہ وقال صحیح و اقروہ، |
دعا کی کثرت کرے۔ اسے ترمذی وحاکم نے حضرت ابوہریرہ رضی اﷲتعالٰی عنہ سے روایت کیا اورحاکم نے کہا صحیح ہے، اور علماء نے اسے برقرار رکھا۔(ت) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع