30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
(۵)اللّٰھُمَّ عَبْدُكَ اَمَتُكَ وَا(بْنُ)بَنْتُ اَمَتِكَ (احتاجَت) اِلٰی رَحْمَتِكَ وَاَنْتَ غَنِی عَنْ
|
(بقیہ حاشیہ صفحہ گزشتہ) تقصیر مابالنظر الی ما ینبغی لجلال وجہ الکریم فالمغفرۃ فی حقھم ان یتجاوز عن ذلك ولا یعاملھم قدر اعمالھم بل قدر افضالہ والیہ اشارۃ بقولہ رحمۃ اﷲتعالٰی ورفع الدرجات قال القاری واغرب الحنفی بقولہ، الاولی ان یقال ای زدفی زکاتہ وطھارتہ اھ ۔ اقول: مرجعہ الی ماذکرنا ای ان کان طاھرا من الذنوب فزدنی طھارتہ بمغفرۃ التقصیر فی شکرك الخطیر وقدفسرہ القاری نفسہ بقولہ ای فزد فی احسانہ کما فی روایۃ اھ لایعبد عن قول الحنفی کثیرا وانا اقول: وباﷲ التوفیق بل ھومن تزکیۃ الشھودد ای ان کان زاکیا فاظھرفی ملکوتك انہ ذاك واشھدلہ بذاك وھذا لیس بتاویل بخلاف ماتقدم وباﷲ التوفیق کلھا منہ رضی اﷲ |
پہنچ سکتا۔ رب کریم کی بزرگی شان کے لحاظ سے عامہ صالحین کسی نہ کسی کی کمی سے خالی نہ ہوں گے توان کے حق میں مغفرت یہ ہے کہ اس سے درگزر فرمائے اوران کےساتھ ان کے اعمال کے حساب سے نہیں بلکہ اپنے فضل وکرم کے لحاظ سے معاملہ فرمائے اور ابن جزری رحمۃ اﷲ علیہ نے اسی بات کی طرف اپنے قول(اور درجات بلند فرماکر) سے اشارہ فرمایا--علامہ علی قاری فرماتے ہیں:علامہ حنفی نے یہ عجیب وغریب بات لکھی کہ اس کی تفسیر میں یہ کہنا بہتر ہوگا کہاس کی ستھرائی اور پاکی میں اضافہ فرما—اقول: اسکا مآل بھی وہی ہے جوہم نے بیان کی اگر گناہوں سے پاك ہے تو اس کی پاکی میں اضافہ فرما اس طرح کہ اپنے عظیم شکر کی بجا آوری میں اس کی تقصیر کو بخش دے --اورخود مولانا قاری نے اس کی تفسیر ان الفاظ میں کی ہے: یعنی اس کی نیکی میں اضافہ فرما جیسا کہ ایك روایت میں آیا ہے اھ— اقول:وباﷲ التوفیق(میں کہتا ہوں اور توفیق خدا ہی سے ہے) بلکہ یہ تزکیہ شہود سے ہے (گواہوں کا تزکیہ یہ ہوتا ہے کہ ان کی باطنی عدالت وپرہیز گاری جانچ کر ظاہر (باقی برصفحہ آیندہ) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع