30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
انس بن مالك رضی اﷲ تعالٰی عنہ بسند صحیح۔ |
تعالٰی عنہ سے بسند صحیح روایت کیا۔(ت) |
رسول اﷲ صلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا : الاتصفون کماتصف الملٰئکۃ عند ربھا(کیا تم ویسے صف نہیں لگاتے جیسے ملائکہ اپنے رب کے حضور صف لگاتے ہیں۔ت) صحابہ نے عرض کی:یا رسول اﷲ وکیف تصف ملٰئکۃ عند ربھا(یارسول اﷲ ملائکہ اپنے رب کے حضور کیسے صف لگاتے ہیں؟۔ت) ارشاد فرمایا: یتمون الصف الاول و یتراصون فی الصف[1] (پہلی صف پُوری کرتے ہیں اورصف کے اند خوب مل کر کھڑے ہوتے ہیں۔ت) رواہ مسلم وابوادؤد وابن ماجۃ عن جابر بن سمرۃ رضی اﷲتعالٰی عنہ(اسے ابوداؤد اور ابن ماجہ نے حضرت جابر بن سمرۃ رضی اﷲتعالٰی عنہ سے روایت کیا۔ت) اور نمازِجنازہ میں تفریقِ صفوف سب کو مسلّم۔صلٰوۃ مطلقہ میں محاذاتِ زن حسب شرائط عشرہ مفسد نماز ہے اور نمازِ جنازہ میں اصلًا مفسد نہیں کما نص علیہ فی الکتب قاطبۃ(جیسا کہ تمام کتابوں میں اس کی تصریح ہے۔ت) تو کیا بعید ہے کہ صف کے پیچھے انفراد صلاۃِ مطلقہ میں مکروہ ہو نہ نمازِ جنازہ میں وبہ یضعف ماوقع فی الحلیۃ ان لو لاالحدیث لقلنا بکراھتہ[2] (اور اسی سےحلیہ میں واقع یہ کلام ضعیف ہوجاتا ہے کہ اگر حدیث نہ ہوتی تو ہم اس کی کراہت کے قائل ہوتے۔ت)بالجملہ مسئلہ واضح ہے اور بحث طائع اور برخلاف حدیث وفقہ اُس پر اعتماد جہل فاضح ۔ اب رہا اصل سائل کہ یہ تفریق پانچ مقتدیوںمیں بھی کی جائے یا صر ف چھ سے مخصوص ہے۔
اقول: ہاں پانچ میں بھی کی جائے، ہمیں حدیث وفقہ نے بتایا کہ ارشادِ مصطفی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم:
|
ما من مسلم یموت فیصلی علیہ ثلثۃ صفوف من المسلمین الا اوجب[3]۔ |
مسلمانوں میں سے کوئی فوت ہوگیا اور اس پر مسلمانوں کی تین صفوں نے نماز جنازہ پڑھا تو اس کے لئے جنت واجب ہوگئی۔(ت) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع