30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
سرورعالم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کا ارشادگرامی ہے کہ میرے غسل وکفن کے بعد سب سے پہلے جبرائیل مجھ پر صلوٰۃ کریں گے پھر میکائیل پھر اسرافیل پھر ملك الموت اپنے سارے لشکروں کے ساتھ۔ |
٢٨٦ |
عمروملك زید میں بے اذن زیدبیع کرے زید خبرپاکر روارکھے تو روا ہے اوراگرخود از سرنو عقد کرے توظاہرہوگا کہ عقدفضولی پرقناعت نہ کی اب عقد یہی عقد مالك ہوگا نہ عقدفضولی۔ |
٢٩٥ |
|
نمازاول نہ ولی احق نے خود پڑھی نہ اس کے اذن سے ہوئی توہمارے نزدیك اسے اعادہ کااختیارہے۔ |
٢٩١ |
خودحضوراقدس صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم جس میت پرنماز پڑھیں یہ اعادہ نمازنہیں بلکہ نمازاول یہی قرارپائے گی۔ |
٢٩٥ |
|
زمانہ اقدس حضورسیدعالم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم میں تمام مسلمین کے ولی احق واقدم خود حضورپرنورصلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم ہیں۔ |
٢٩١ |
مسجدمحلہ میں جب اہل محلہ جماعت صحیحہ غیرمکروھہ باعلان اذان اداکرچکیں تو دوسروں کوباعادہ اذان وہاں جماعت کی اجازت نہیں۔ |
٢٩٧ |
|
سرکاردوعالم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی مسلمان مرے مجھے خبرکردیاکرو اس پرمیرانمازپڑھنارحمت ہے۔ |
٢٩٣ |
اگرپہلی جماعت بے اذان یا باخفائے اذان واقع ہو تو دوسروں کو رواہے کہ اذان بروجہ مسنون دے کر محراب میں جماعت کرائیں۔ |
٢٩٧ |
|
نمازجنازہ شفاعت ہے۔ |
٢٩٤ |
جماعت اولٰی جب برخلاف حکم سنت ہو تودوسری جماعت اعادہ جماعت نہیں بلکہ یہی جماعت اولٰی ہے۔ |
٢٩٧ |
|
جس مسلمان کے جنازے پر چالیس مسلمان نمازمیں کھڑے ہوں اﷲ تعالٰی اس کے حق میں ان کی شفاعت قبول فرماتاہے۔ |
٢٩٤ |
اثبات حکم کے لیے محض صحت حدیثی کافی نہیں بلکہ صحت فقہی چاہئے۔ |
٢٩٩ |
|
مالك شفاعت صرف حضوراقدس صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم ہیں۔ |
٢٩٤ |
حدیث تعددصلوٰۃ علٰی سیدنا حمزہ رضی اﷲ تعالٰی عنہ پرمحدثانہ گفتگو۔ |
٢٩٩ |
|
اورجوکوئی شفاعت کرے گا حضورصلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کی نیابت سے کرے گا۔ |
٢٩٤ |
حضورعلیہ الصلوٰۃ والسلام کی نماز سے اندھیری قبریں روشن ہوجاتی ہیں۔ |
٣٠١ |
|
حضورپرنورصلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم روزقیامت تمام انبیاء کے خطیب، ان کے امام اور مالك شفاعت ہیں۔ |
٢٩٥ |
تنویرقبرکے لیے بعد ازنمازجنازہ کسی کی قبرپرنماز پڑھنا سرکار دوعالم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کے ساتھ خاص ہے۔ |
٣٠١ |
|
تصرف فضولی اذن مالك پرموقوف ہوتاہے۔ |
٢٩٥ |
نعش مبارك کامقابر کی طرف نہ لے جانا، خاص وصال کی جگہ پردفن ہونا، نہلانے میں قمیص اقدس کا بدن سے جدانہ کیاجانا، سب صحابہ کے مشرف ہونے کے لیے جنازہ مبارك کا پونے دودن رکھارہنا اور جنازہ اقدس پر کسی کی امامت روانہ ہونا خصائص رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم ہیں۔ |
٣٠٢ |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع