30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
ہوتا کہ نص حدیث اُسی طرف ہے اور علماء تصریح فرماتے ہیں:
|
لایعدل عن درایۃ ماوافقتھاروایۃ [1]کمانص علیہ فی الغنیۃ وردالمحتار وغیرھا۔ |
کسی درایت سے عدول نہ ہوگاجب تك کوئی روایت اس کی موافقت کرتی ہو جیسا کہ غنیہ اور ردالمحتار وغیرہما میں اس کی تصریح ہے(ت) |
خامسًا اس بحث واستنباط کا سارامدار اس پر ہے کہ روایت ابی داؤد میں جزاھم ثلثۃ صفوف [2] (انہیں تین صفوں میں تقسیم کیا۔ت) کا لفظ وارد ہے، اور ایك شخص کو صف نہ کہیں گےترمذی کی اس حدیث میں جزاھم ثلثۃ اجزا [3]۔ (انہیں تین صفوں میں تقسیم کیا۔ت)ہے اورجزمطلق ہے اور ہم ابھی حدیثِ مرفوع سے نقل کرچکے ہیں کہ نبی صلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم نے ایك صف ایك ہی صاحب کی کی، علامہ قاری نے روایتِ ترمذی کی جوشرح ٹھرائی کہ تین٣ حصے کرنے سے مراد یہ ہے کہ بوُڑھے اوراُدھیڑ اور جوان یا علماء و طلبہ وعوام ،
|
حیث قال ای قسمھم ثلثۃ اقسام ای شیرخا وکہو لاوشبابااوفضلاء وطلبۃ العلم والعامۃ٤ [4] |
انہوں نے کہا :ان کو تین٣ حصوں میں تقسیم کیا یعنی بوڑھوں، ادھیڑوں اور جوانوں میں یا علماء، طلباء اورعوام میں تقسیم کیا۔(ت) |
یہ بھی نرا اجتہادِ علّامہ ہے جس پر نہ حدیث مرفوع میں دلالت نہ اُس کی فرع فعل صحابی میں، نہ اُسے اس کی شرط اذا صلی علٰی جنازۃ فتقال الناس علیھا [5](جب نمازِجنازہ پڑھی اور اس پر آدمی کم محسوس کئے ۔ت) پر ترتب، یہ مقتضی تجزیہ ہیں، نہ طالبِ توزیع، تویہ تفسیر بلاانشاء ہے، نہ شرع سے کہیں کسی نماز میں یہ تقسیم معہود کو بوڑھے الگ چھانٹے جائیں اور ادھیڑ جُدا اور جوان علیحدہ۔
سادسًا ہمیں مسلم کہ فی نفسہٖ مستقل صف کم از کم دو کی ہوگی، مگر صف یا صفوف کے ساتھ اگر ایك شخص صف جداگانہ ہوتو اُس پر بھی ضرور اطلاقِ صف ہے اور یہی ہمارےا س مسئلہ میں ہے۔
[1] ردالمحتار مطلب اذاتعارض التعمیم مطبوعہ مصطفی البابی مصر ١/٥٣
[2] سنن ابی داؤد باب فی الصفوف علی الجنازۃ آفتاب عالم پریس لاہور ٢/٩٥
[3] جامع الترمذی ابواب الجنائز باب کیف الصلٰوۃ علی المیت الخ امین کمپنی کتب خانہ رشیدیہ دہلی ١/١٢٢
[4] مرقاۃ المفاتیح کتاب الجنائز(حدیث :١٦٨٧) المکتبہ الحبیبیہ کوئٹہ ٤/١٧٠
[5] جامع الترمذی ابواب الجنائز باب کیف الصلٰوۃ علی المیّت امین کمپنی کتب خانہ رشیدیہدہلی ١/١٢٢
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع