30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
الضمیر فی"بعدی"فی اخرین ارجاعالہ الی الصّف۔ |
میں کہتاہو ں دو اخیر والے"اس کے بعد"میں ضمیر واحد اس لئے رکھی کہ مرجع صف کو بنایا ہے(ت) |
حلیہ وغنیہ وردالمحتار شروع معتمدہ میں اورجامع التفاریق ومحیط و عتابیہ وتاتار خانیہ وعالمگیریہ فتاوٰی مستندہ اور کتبِ مذہب میں ان کا کہیں خلاف نہیں۔ لاجرم امام ابن امیر الحاج نے جنازہ میں ایك شخص کے صف ہونے کی کراہت کو امام احمد بن حنبل سے ایك روایت کی طرف نسبت فرمایا :
|
حیث قال بعد ماقدمناعنہ ھذاوعن احمد انہ کرہ ان یکون الواحد صفا١ [1]۔ |
اس طرح کہ ہماری نقل کردہ عبارت کے بعد فرمایا : یہ محفوظ رکھو، اور امام احمد سے ایك روایت ہے کہ انہوں نے ایك آدمی کی صف کو مکروہ جانا۔(ت) |
اپنے مذہب میں کراہت کی کوئی روایت ہوتی تو وہی احق بالذکر تھی، صرف مذہب غیر کی طرف نسبت پر اکتفا نہ کی جاتی۔ غرض فقہ یہ ہے اور حدیث وہ، پھر مخالفت کیا معنی۔ رہا وہ اشارہ جو مرقاۃ میں استنباط کیا اور اس کے سبب جُہّال نے نصوصِ حدیث وفقہ کو بالائے طاق رکھ دیا۔
اقول: وباﷲ التوفیق (میں اﷲ کی توفیق سے کہتا ہوں ۔ ت) نہ وہ استنباط مقبول ہے نہ اُس پر اعتماد جائز،
اوّلًا وہ علی قاری کی ایك بحث ہے اور منقول کے حضور بحث اصلًا قابلِ التفات نہیں
|
کما نص علیہ فی ردالمحتار وغیرہ من معتمدات الاسفاروقداکثرنانقولہ فی فتاوٰنا۔ |
جیساکہ ردالمحتار وغیرہ معتمد کتابوں میں تصریح ہے اور بہت سی عبارتیں ہم نے اپنے فتاوٰی میں نقل کی ہیں۔(ت) |
اور اُسے مرقاۃ میں منقول بتانا جہل صریح ہے یا افترائے قبیح، پھر جزئیہ منصوصہ کتب مذہب کو قول قاری سے غیر صحیح کردینا سخت جرأت مردود ہے۔ فتاوائے اکثر منصوصاتِ ائمہ ومرسل بلاعز ولکھتے ہیں کما لایخفی علٰی خادم الفقہ(جیسا کہ خادمِ فقہ پر پوشیدہ نہیں۔ت) بلکہ قدمائے اہل فتاوٰے غالبًا اقوالِ مشائخ کو معزو لکھتے ہیں اور نصوصِ مذہب کو بلاعزو خصوصًا جبکہ ائمہ مذہب سے ان میں اختلاف نہ منقول ہو۔شرنبلالی علٰی دررالحکام میں ہے:
|
صرح بہ قاضی خان من غیر اسنادہ |
(قاضی خان نے کسی کی طرف اسناد کئے بغیر اس کی |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع