30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
ام المومنین صدیقہ و ام المومنین ام سلمہ وابوہریرہ و ابوسعید خدری و عبداﷲ بن عباس رضی اﷲ تعالٰی عنہم اجمعین روایت فرماتے ہیں :
|
ان النبی صلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم علی جنازۃ فکانواسبعۃ فجعل الصف الاول ثلثۃ والثانی اثنین والثالث واحدا ۔ |
نبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے ایك جنازہ پر نماز پڑھی، صرف سات آدمی تھے، حضورا قدس صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے پہلی صف تین آدمیوں کی کی ، دوسری صف دو کی اور تیسری صف ایك شخص کی۔ |
امام محمد محمد محمد ابن امیر الحاج حلیہ میں فرماتے ہیں :
|
فی القنیۃ ثم ان کان القوم سبعۃ فاتموھا ثلثۃ صفوف یقدم احدھم وخلفہ ثلثہ وخلفہم اثنان وخلفہا واحد انتہی قلت ویشھدلہ ان عطاء بن ابی رباح روی ان النبی صلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم وعلٰی اٰلہ وصحبہ وسلم صلی علی جنازۃ فکانو سبعۃ (وساق الحدیث وقال) ولو لاھذاالحدیث لقنا بکراھۃ جعل الواحد صفالامرہ صلی اﷲ تعالٰی علیہ واٰلہ وصحبہ وسلم للمنتبذ وراء الصف فی الصلٰوۃ المطلۃ با عادتھا کما تقدم فی موضعہ، اللھم الاان یقال ان ذلك ایضااذالم یکن فیہ تحصیل مصلحۃ مقصودۃ من وھی السعی فی حصول المغفرۃ للمیت کما اخبرہ |
قنیہ میں ہے:اگر سات آدمی ہوں توپوری تین صف بنائیں، ایك آگے ہو، تین اس کے پیچھے، دو ان کے پیچھے ایك ان کے پیچھے(عبارت قنیہ ختم)میں کہتا ہوں اس کا ثبوت اس حدیث سے ہے کہ حضرت عطاء بن ابی رباح نے بیان کیا کہ نبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وآلہٖ وصبحہٖ وسلم نے ایك جنازہ پر نمازپڑھی صرف سات آدمی تھے(آگے حدیث ذکر کی،پھر کہا) اگر یہ حدیث نہ ہوتی تو ایك شخص کی صف بنانے کو ہم مکروہ کہتے۔ کیونکہ حضور صلی اﷲ تعالٰی علیہ وآلہٖ وصحبہٖ وسلم نے صلاۃ مطلقہ میں صف کے پیچھے الگ تھلگ کھڑے ہونے والے کو نماز لوٹانے کا حکم فرمایا جیسا کہ یہ اپنے موقع پر بیان ہوچکا ہے --مگر یہ کہا جائے کہ وہ بھی اُس وقت ہے جب اس میں نماز کی مصلحت مقصودہ کہ بجاآواری نہ ہو،، اوریہاں نماز کی ایك مصلحت مقصودہ موجود ہے وہ ہے میت کے لئے |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع