30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اس کا مطلب بظاہر یہی ہے کہ اکیلا نہ ہو تو یہ اشارہ ہے۔محیط کی روایت الانفرادکے غیر صحیح ہونے پر، بہر حال پانچ مقتدیوں میں اس تکلف کی حاجت نہیں ہے۔ اورقاعدہئ کلیہ ہے کہ کراہت سے بچنا استحباب کے حاصل کرنے کا مقدم ہے اور روایات نہی عن انفراد سے استثنائے صلٰوۃ جنازہ موجہ نہیں معلوم ہوتاہے، نیز مرقاۃ شرح مشکوٰۃ میں ہے:
|
واقل الصف ان یکون اثنین علی الاصح١ [1]۔ |
اصح یہ ہے کہ صف کم سے کم دو کی ہو۔(ت) |
پس کراہت انفراد اس عبارت سے خوب ظاہر ہوگئی۔ یہ تفریع تفریعاتِ مشائخ سے معلوم ہوتی ہے۔ ائمہ ثلاثہ سے منقول نہیں۔حضرت مولانا محمود حسن صاحب نے اس میں یہ فرمایا کہ ایك شخص کی صف نہیں ورنہ تین کی تین صف کرنی چاہئے۔ وھو بعید۔کتبہ عزیز الرحمان
اب کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیانِ شرع متین گزارش ذیل میں کہ کتابِ فقہ سے دو امر بالہدایۃ ماخوذ ہوتے ہیں۔صلاۃ جنازہ میں شخص واحد کی صف کا کراہت سے مستثنٰی ہونا ونیز شخص واحد کو علی الاصح بہ تبعیت دیگر صفوف صف سے تعبیر کیا جانا، اولٰی ہونا زیادتی صف اول کی بمقابلہ صف دوم اور صف دوم بمقابلہ صف سوم کی، حتی کہ واسطے زیادتی صف اوّل کے سات نمازی ہونے کی حالت میں صف اولٰی میں تین اشخاص کا کھڑا کیا جانااور صف ِ سوم میں صرف ایك شخص کا رہنا پسند کیاگیا، حالانکہ ممکن تھا کہ ہر صف میں دو دو نفر کھڑے کئے جاتے۔یہ پتا کسی کتاب سے نہیں چلتا ہے فقہائے کرام نے اس ترتیب پسندیدہئ خود کااستخراج کس حدیث یا نص سے کیا اور حضرت ملّا علی قاری نے کس بنا پر ان کی مخالفت پسند کی کہ شخص واحد کے صف کے وجود ہی سے انکار فرمادیا۔ جس سے ترتیب پسندیدہ فقہاءِ کرام بالکلیہ غلط وعبث ہوئی جاتی ہے۔ پس ہدایت خواہ ہوں کہ اس اختلاف ترتیب صفوف ثلاثہ کے متعلق جو کچھ تحقیق وتنقیح موافق ملتِ احناف رحمہم اﷲ ہوبحوالہ کتب بخوبی صراحت سے تحریر فرماکر عنداﷲ ماجور وعندالناس مشکور ہوں، نیز یہ بھی ہدایت فرمائی جائے کہ بحالت نفر اورصفِ سوم میں شخصِ واحد کا کھڑا ہو یا جملہ مقتدیوں کی ایك ہی جماعت کی جائے کہ صفوفِ ثلاثہ کی ترتیب کم از کم سات اشخاص کا ہونا سب کتب میں مرقوم ہے، اس سے کم کی نسبت کچھ ذکر نہیں ہے حالانکہ ترتیب چھ اشخاص کی بھی ممکن ہے۔
الجواب:
سیّدنا امام اعظم ابوحنیفہ رضی اﷲ تعالٰی عنہ کے استاد امامِ اجل عطاء بن ابی رباح تابعی جلیل تلمیذ
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع