30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
مسئلہ نمبر ٦١: ازخیر آباد ضلع سیتاپور محلہ میانسرائے مدرسہ عربیہ قدیم مرسلہ مولوی سید فخرالحسن صاحب رضوی ۱۹ ربیع الآخر ١٣٣٠ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ نمازِ جنازہ میں جب ایك امام اور پانچ مقتدی ہوں تو بنظر حصولِ نعمتِ بشارت مغفرت تین صفوف اس طرح کرلی جائیں کہ صف اوّل ودوم میں دو دو نفر اورصف سوم میں ایك نفر ہو۔ کیونکہ عباراتِ فقہ سے معلوم ہوتا ہے کہ نمازِجنازہ میں ایك شخص کی صف کراہت سے مستثنٰی ہے جیسا کہ صاحب ردالمحتار بحوالہ کتاب محیط تحریر فرماتے ہیں۔
|
قال فی المحیط، ویستحب ان یصف ثلاثۃ صفوف حتی لوکانو اسبعۃ یتقدم احدھم للامامۃ ویقف وراء ثلاثۃ ثم اثنان ثم واحد اھ فلو کان الصف الاول افضل فی الجنازۃ ایضالکان الافضل جعلھم صفاواحداولکرہ قیام الواحد وحدہ کماکرہ [1]اھ۔ |
محیط میں تحریر کیا گیا کہ مستحب ہے کہ تین صفیں ہوں یہاں ك کہ اگر سات آدمی ہوں تو ایك امام ہوجائے تین اس کے پیچھے کھڑے ہوں پھر دوپھرایک۔ تو اگر جنازہ میں پہلی صف افضل ہوئی توان سب کو ایك صف میں کر دینا بہتر ہوتا ہے اور تنہا ایك کا کھڑاہونا مکروہ ہوتا جیسے غیر نمازِ جنازہ میں مکروہ ہے اھ۔ |
اسی طرح عالمگیریہ میں ہے بحوالہ کتاب تاتارخانیہ اورقنیہ میں بحوالہ کتاب جامع التفاریق للبقالی وعین الہدایہ میں اور رسالہ تجہیز وتکفین میں یہی ترتیب درج ہے اس اتفاق عبارات سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ طریقہ پسندیدہ فقہائے کرام یہی ترتیب مذکور ہے۔فقط
الجواب:
جس حدیث میں یہ بشارت ہے اُس میں تین صفوف مروی ہیں پس جہاں تك ہر ایك صف میں کم از کم دوتین آدمی ہوسکیں ایساکرنا عمدہ ہے کیونکہ ایك شخص کو صف نہیں کہتے ہیں۔ ورنہ پھر تین مقتدی ہوں تو تین صف کرنی چاہئے ۔ حالانکہ یہ شاید کسی فقیہ کو پسندیدہ نہ ہو۔ اس حدیث کہ شرح میںمراقاۃ ملّا علی قاری میں یہ عبارت منقول ہے :
|
وفی جعلہ صفوفااشارۃ الی کراہۃ الانفراد [2]۔ |
اور اس کے چند صف بنانے میں اکیلے ہونے کی کراہت کی جانب اشارہ ہے۔(ت) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع