30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
ردالمحتار میں ہے :
|
ای لاتعاد لصحۃ صلوۃ الامام وان لم تصح صلٰوۃ من خلفہ[1]۔واﷲ سبحٰنہ وتعالٰی اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم واحکم۔ |
یعنی اعادہ اس لیئے نہیں کہ امام کی نماز صحیح ہوگئی اگرچہ پیچھے والوں کی نماز صحیح نہ ہوئی۔واﷲ سبحٰنہ، وتعالٰی اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم واحکم(ت) |
مسئلہ نمبر ٤٧ : ازگوالیار مسئولہ مولوی محمد محمود الحسن صاحب ١٣ربیع الآخر ١٣٣٩ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ان مسائل میں کہ :
(١) ایك جنازے کی نماز میں زید نے لوگوں کو جنہوں نے جوتوں میں سے پیروں کو نکال کر اور جُوتے کے اوپرپَیر رکھ کر نماز پڑھنا چاہا، روکاکہ پَیر جوتوں سے مت نکالو جُوتے پہنے ہوئے نماز درست ہے۔ عمرو نے ایك شخصیّت کے الفاظ میں کہا کہ کوئی کہتاہے جوتے پہنے ہوئے نماز پڑھو، جوتے سب اتار ڈالیں۔ چنانچہ بعض نے زید کے کہنے پر عمل کیا بعض نےعمرو کے کہنے پر۔ بعد نماز بحث پیش آئی۔زید نے تحریری جواب میں کہ رسول خدا نے نماز میں جوتا اتارا، مقتدیوں نے بھی اتار ا،پیغمبر صاحب نے دریافت کیا تم نے جوتے کیوں اتارے؟ جواب دیا کہاتباع کیا۔ آپ نے فرمایامجھ سےجبرئیل علیہ السلام نے کہا کہ جوتے میں ناپاکی ہے۔پس معلوم کرلینا چاہئے،عمرو کو ایسا کہنا خلاف تھا اس لئے کہ وہ کیسے برجستہ الفاظ صدر کہہ سکتا تھا اس لئے ناپاکی کا ثبوت نہیں رکھتا تھا، مقامی حالت میں جہاں جوتے اتار کر نماز پڑھنے کے واسطے عمرو نے کہا تھا یہ تھی کہ وہاں گھوڑے وغیرہ پیشاب کرتے ہیں، جوتے پہنئے ہوئے جسقدر لوگ تھے اُن کے جوتے خشك تھے، پس اس حالت میں شرعًا عمرو کا کہنا صحیح سمجھا جائے گا یا زید کا؟
(٢) عمرو مذکور نے ایك مرتبہ ایسا بھی کیا کہ نمازِ جنازہ دوبار پڑھائی، زید نے اس کو مکروہ کہا، اور جب عمرو کی جانب سے لوگوں نے بحث کی تواُس نےعلاوہ مکروہ کے آثارِ فتنہ اوربدعت بھی ثابت کیا ، کیا زید کا کہنا حق ہے؟
الجواب:
(١) اگر وہ جگہ پیشاب وغیرہ سے ناپاك تھی یا جن کے جوتوں کے تلے ناپاك تھے اور اس حالت میںجوتا پہنے ہوئے نماز پڑھی اُن کی نماز نہ ہوئی، احتیاط یہی ہےکہ جوتا اتار کر اس پر پاؤں رکھ کر نماز پڑھ لی جائے کہ زمین یا تلاناپاك ہو تو نماز میں خلل نہ آئے۔ردالمحتار میں ہے :
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع