30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
الجواب:
جنازہ کی نماز مثل اور سب نمازوں کے بغیر طہارت کے ہر گز صحیح نہیں ۔وہ پڑھنے والے گنہگار ہوئے اورانہوں نے بہت سخت بُرا کیا اوراُن کی نماز ہرگز ادا نہ ہوئی۔ نمازِ جنازہ میں صرف طہارتِ امام شرط ہونے کے یہ معنی ہیں کہ اگر ایسا ہو جب بھی اُس میت کی نمازِ جنازہ اداہوجائیگی اور وہ فرض کفایہ ساقط ہوجائے گا کہ جب امام طاہر تھا تواس کی نماز صحیح ہوگئی، اس فرض کے ادا کرنے کو اتنا کافی ہے کہ اس میں جماعت شرط نہیں یہ معنی نہیں ہیں کہ فقط طہارت امام صحت نماز مقتدیان کے لئے بھی کفایت کرتی ہے مقتدیوں کو بے طہارت پڑھ لینی جائز ہے،یہ محض جہالتِ فاحشہ ہے، جس نے یہ فتوی بیہودہ دیا وہ شرعًا تعزیر دئے جانے کے قابل ہے کہ جاہل کو مفتی بنناحرام ہے۔
|
فی ردالمحتار اماالشروط التی ترجع الی المصلی فھی شروط بقیۃ الصلٰوۃ من الطھارۃ الحقیقۃ بدناوثوباومکاناوالحکمیۃ وسترالعورت و لاستقبال والنیۃ سوی الوقت١ [1]۔ |
ردالمحتار میں ہے : نمازِ جنازہ پڑھنے والے سے متعلق شرطیں وہی ہیں جو بقیہ نمازوں سے متعلق کہ بدن ، جامہ،جگہ نجاستِ حقیقیہ سے پاك ہو،بدن نجاست حکمیہ سے بھی پاك ہو، سترِعورت ہو، استقبالِ قبلہ اور نیّت ہووقت کی شرط نہیں۔(ت) |
اُسی میں ہے : لاصحۃ لھابدون الطھارۃ [2]۔ بغیر طہارت کے نمازِ جنازہ صحیح نہیں۔ت)درمختار میں ہے :
|
لو ام بلاطہارۃ والقوم بھااعیدت وبعکسہ لا کما لوامت امرأۃ ولوامۃ لسقوط فرضہا بواحد [3]۔ |
اگر امام بے طہارت ہے اور مقتدی باطہارت تو جنازہ پھر سے پڑھنا ہے اور اس کے برعکس ہے تو اعادہ نہیں ، جیسے اگر کوئی عورت امامت کردے خواہ کنیز ہی ہوتو اعادہ نہیں اس لئے کہ ایك کے پڑھ لینے سے بھی فرض اداہوجاتا ہے(ت) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع