30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
اقول: آرے اگر ضرورت داعیہ بتقدیم جنازہ است مثلًا شکمِ مُردہ منتفخ شد واندیشہ است کہ اگر دیر کنند منشك شود وہنوز در وقت سعتے ست کہ بتقدیم جنازہ فوت نہ شود آنگاہ لاجرم تقدیم جنازہ مے شاید بالاتفاق کما لا یخفی، واﷲ تعالٰی اعلم ۔
|
فتوٰی ہے جیسا کہ بحر وغیرہ میں ہے اقول: ہاں اگر ضرورت پہلے ادائے جنازہ کی طالب ہے مثلًا مُردہ کا پیٹ پھولا ہوا ہے اور اندیشہ ہے کہ اگر دیر کریں تو پھٹ جائے گا، اور ابھی وقت میں اتنی وسعت ہے کہ جنازہ پہلے ادا کرنے سے مغرب فوت نہ ہوگی تو ایسے وقت میں ناچار، بالاتفاق نماز جنازہ کی ادائیگی پہلے ہوگی، جیسا کہ پوشیدہ نہیں واﷲ تعالٰی اعلم(ت) |
مسئلہ نمبر ٤٣: ۸شوال ١٣٣٨ھ
ظہر کی نماز کا وقت ابھی شروع ہُوا پھر جنازہ بھی آیا، اور وقت بہت ہے، اب کون نماز مقدم ہو، اور سنّت کس وقت؟
الجواب:
جب وقتِ ظہر وسیع ہے جنازے کی تقدیم کریں، ہاں اگر جنازہ لے جانے والے بھی اسی جماعتِ ظہر میں شریك ہوں گے کہ اگر جنازہ کی نماز پہلے ہوجائے جب بھی جنازہ نمازِ ظہر سے فارغ ہونے کے لئے رکھا رہے گا اس کے تغیر کا اندیشہ نہ ہو تو ظہر کے فرض و سنّت پہلے پڑھیں اس دیر میں شاید اور نمازی بھی آجائیں اور جنازے پر تکثیر ہو۔ واﷲ تعالٰی اعلم
مسئلہ نمبر٤٤: ازمرادآباد محلہ گل شہید مرسلہ مولوی جمیل الدین احمد صاحب ١٤صفر ١٩١٦ ھ
|
ماقولکم ایھا العلماء الراسخون والفقھاء الماھرون فی ان ولی المیت صلی علیہ او غیربانابتہ صلٰوۃ الجنازۃ اول وقت العصر قبل ان یصلی العصر ھل تجوز صلٰوۃ الجنازۃ قبل صلٰوۃ العصر ام لا وان تجز فمن اعادھا بعد صلوۃ العصر باعتقاد انھا لاتجوز قبلھا ھل یکون مبتدعا شرعا اولا، بینوہ بیانا شافیا توجروا عنداﷲ اجرا وافیا۔ |
علمائے راسخین وفقہائے ماہرین کا اس بارے میں کیا ارشاد ہے کہ اول وقت عصر میں ولی میّت نے یا اس کی اجازت سے دوسرے نے نمازِجنازہ ادائے عصر سے پہلے پڑھ لی تو عصر سے پہلے یہ نماز جائز ہو ئی یا نہیں ؟ اگر جائز ہوئی تو بعد عصر جنازہ دوبارۃ پڑھے اس خیال سے کہ قبل عصر وہ جائز نہیں تو شرعًا مبتدع ہے یا نہیں؟ شافی طور پر بیان فرمائیں خداکے یہاں وافی اجر پائیں۔ |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع