30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
ظاھر یؤید تعبیرالھدایۃ بولایۃ النکاح، قولہ(فیقدم علی الابن اتفاقا) ھوالاصح وقیل ھذاقول محمد وعندھمالابن اولی،قال فی الفتح انماقدمنا الاسن بحدیث القسامۃ لیتکلم اکبرھما وھذایفید ان الحق للابن عندھما وھذا یفید ان الحق للابن عندھما الا ان السنۃ عن یقدم اباہ ویدل علیہ قولھم سائر القرابات اولی من الزوج ان لم یکن لہ منھا ابن فان کان فالزوج اولٰی منھم لان الحق للابن وھویقدم اباہ ولا یبعد ان یقال ان تقدیمہ علی نفسہ واجب بالسنۃ اھ،وفی البدائع وللابن فی حکم الولایۃ ان یقدم غیرہ لان الولایۃ ان یقدم غیرہ لان الولایۃ لہ وانما منع عن التقدم لئلا یستخف بابیہ فلم تسقط ولایتہ بالتقدیم قولہ (الاان یکون الخ)قال فی البحر ولو کان الاب جاھلاوالابن عالماینبغی ان یقدم الابن الاان یقال ان صفۃ العلم لاتوجب التقدیم فی صلٰوۃ |
تو وہ اجنبی سے اولٰی ہوں گے۔ اوریہ ظاہر ہے جس کی تائید ہدایہ کے الفاظ"ولایت نکاح"سے ہوتی ہے --عبارت درمختار (باپ بیٹے پر یہاں بالاتفاق مقدم ہے) یہی اصح ہے۔ اور کہا گیا کہ یہ امام محمد کا قول ہے اور شیخین (امام اعظم و امام ابویوسف) کے نزدیك بیٹا اولٰی ہے-- فتح القدیر میں ہے: ہم نے زیادہ عمر والے کو مقدم کیا حدیثِ قسامت کے پیشِ نظرجس میں ہے کہ"دونوں میں جو زیادہ بڑا ہے وُہ کلام کرے"--اس سے مستفاد ہوتا ہے کہ شیخین کے نزدیك حق بیٹے کاہے۔مگر سنّت یہ ہے کہ وُہ اپنے باپ کو آگے کرے، اس پر علماء کا یہ کلام دلالت کررہاہے: دیگر اہلِ قرابت شوہر سے اولٰی ہیں اگرشوہر کا اس عورت سے کوئی بیٹا نہ ہو ،اگرہو تو شوہر اُن سے اولٰی ہے۔ اس لئے کہ حق بیٹے کا ہے اوروُہ اپنے باپ کو آگے کرے گا--اور یہ کہنا بعید نہ ہوگا کہ بیٹے کا باپ کو اپنی ذات پر مقدم کرنا ازروئے حدیث واجب ہے اھ—بدائع میں ہے : حکم ولایت کے تحت بیٹے کو یہ اختیار حاصل ہے اور خود آگے بڑھنے سے اس کو اس لئے روکا گیا کہ اپنے باپ کی بے ادبی کا مرتکب نہ ہو، تو دوسرے کو آگے بڑھانے کا حق اُس سے نہ گیا۔عبارتِ دُرمختار (مگر یہ کہ بیٹا عالم ہو) بحر میں ہے: اگر باپ جاہل اور بیٹاعالم ہوتو بیٹے کو آگے کرنا چاہئے ۔ مگر یہ کہا جائے کہ علم نماز جنازہ میں |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع