30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
شرع فرمود کہ پدرِ خود مولوی عبدالحکیم راتقدیم دہ وبپاسِ ادب پیش او پامنہ بایں صورت مولوی عبدالحکیم راتقدم بودے۔ فی الدرالمختار یقدم فی الصلٰوۃ علیہ السلطان ان حضر اونائبہ وھوامیرالمصر(ثم القاضی)ثم صاحب الشرط ثم خلیفۃ ثم خلیفۃ القاضی (ثم امام الحی)فیہ ایھام وذلك ان تقدیم الولاۃ واجب وتقدیم امام الحی مندوب فقط بشرط ان یکون افضل من الولی والافالولی اولٰی(ثم الولی) بترتیب عصوبۃ الانکاح الا الاب فیقدم علی الابن اتفاقا الاان یکون عالماوالاب جاھلافالابن اولٰی فان لم یکن لہ ولی فالزوج ثم الجیران ولہ ای للولی ومثلہ کل من یقدم علیہ (الاذن لغیرہ فیھا)لانہ حقہ فیملك ابطالہ (الا) انہ (ان کان ھناك من یساویہ فلہ) ای لذلك المساوی ولواصغرسنا (المنع) لمشارکتہ فی الحق اماالبعیدفلیس لہ المنع[1] اھ باختصار۔ وفی ردالمحتار قولہ(ثم امام الحی) |
شریعت حکم دیتی ہے کہ اپنے باپ مولوی عبدالحکیم کو آگے کر، اورادب کا لحاظ کرکے اس کے آگے قدم نہ رکھ۔ اس طرح مولوی عبدالحکیم کو تقدم ہو جاتا۔ درمختار میں ہے : نماز جنازہ پڑھانے میں مقدم سلطانِ اسلام ہے اگر وہ موجود ہو یا اس کا نائب، یہ شہر کا حاکمِ اسلام ہے۔ پھر قاضی ،پھر کوتوال، پھر اس کا خلیفہ پھر قاضی کا خلیفہ، پھر امام محلہ۔ اس میں برابری کا ایہام ہے اور حکم یہ ہے کہ حکّام کی تقدیم واجب ہے اور امام محلہ کی تقدیم صرف مندوب ہے بشرطیکہ ولی سے افضل ہو، ورنہ ولی بہتر ہے۔ پھر ولی ۔نکاح کرانے میں عصبہ ہونے کی جوترتیب ہے وہی یہاں بھی ہوگی مگر باپ کہ وہ بیٹے پر یہاں بالاتفاق مقدم ہے لیکن اگر بیٹا عالم اور باپ جاہل تو بیٹااولٰی ہے۔ اگر کوئی نہ ہو تو شوہر پھر ہمسائے۔ ولی کوا ور اسی کی طرح ہر اُس شخص کو جسے دوسروں پر تقدم ہے یہ حق حاصل ہے کہ کسی اور کو اذن دے دے کیونکہ یہ اس کا حق ہے تو اسے باطل کرنے کا اختیار ہوگا۔لیکن وہاں اگر کوئی اس کے مساوی ہو تو اسے اگر چہ وُہ عمر میں چھوٹا ہی ہو۔ دوسرے کو روکنے کا حق حاصل ہے کیونکہ حق میں وہ اس کا شریك ہے ہاں بعید کو روکنے کا اختیار نہیں اھ باختصار۔ ردالمحتار میں ہے: امامِ محلہ اس لئے اولٰی ہے |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع