30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
عارض اپنے عروض ہی تك مزاحم رہے گا زائل ہوتے ہی اصل حسن کاحکم عود کرے گا۔ |
٢٤٣ |
علماء فرماتے ہیں وصل سے نہی اس لیے ہے کہ ایك نماز دوسری کاتتمہ نہ معلوم ہو۔ |
٢٤٩ |
|
عامہ کتب میں یہ عامہ اقوال ہرگزاطلاق وارسال پرنہیں کہ بعد نمازجنازہ مطلقًا دعا کو مکروہ لکھتے ہوں۔ |
٢٤٣ |
امام ابن حامد سے منقول حکایت پربحث کہ انہوں نے فرمایا: دعا بعد نمازجنازہ مکروہ ہے۔ |
٢٥١ |
|
اقوال مذکورہ کراہت دعا مقیدبہ لفظ قیام ہے یعنی نمازجنازہ کے بعد دعا کے لیے قیام(طویل) نہ کرے نہ یہ کہ بعد جنازہ دعاہی نہ کرے۔ |
٢٤٤ |
امام ابن حامد کی حکایت سے استدلال کرنے والے متعسفین کامناظرانہ اندازمیں چھ وجوہ سے رَد۔ |
٢٥٢ |
|
مصنف کی تحقیق کہ وہ کیاقیام ہے جس کی قید سے فقہاء یہ حکم (کراہت) دے رہے ہیں۔ |
٢٤٤ |
اس روایت کا حاکی زاہدی معتمدنہیں۔ |
٢٥٣ |
|
نفس دعا اصلًا صالح ممانعت نہیں اور نہ کھڑے ہوکردعاممنوع ہے۔ |
٢٤٤ |
زاہدی مذہب کامعتزلی ہے۔ |
٢٥٤ |
|
قبرکے پاس کھڑے ہوکر دعاسنت ہے۔ |
٢٤٥ |
زمخشری اور زاہدی میں فرق۔ |
٢٥٤ |
|
صحابہ کرام رضی اﷲ تعالٰی عنہم حضرت فاروق اعظم رضی اﷲ تعالٰی عنہ کی نعش مبارك کے گرد کھڑے ہوکردعائیں کرتے رہے۔ |
٢٤٥ |
لفظ عن مشیرغرابت وتمریض ہے۔ |
٢٥٥ |
|
قیام کے دومعنی ہیں۔ |
٢٤٥ |
فاتحہ ودعا برائے میت دفن سے پہلے جائز ہے۔ |
٢٥٥ |
|
پیش ازنمازدعا خود احادیث صحیحہ میں حضوراقدس صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم سے ثابت ہے۔ |
٢٤٦ |
"ہمیں است روایت معمولہ"یہ الفاظ قوت میں علیہ الفتوٰی اور بہ یفتٰی کے برابرہیں۔ |
٢٥٥ |
|
نماز کے علاوہ کسی دعائے طویل کی غرض سے تجہیزجنازہ کودرنگ وتعویق میں ڈالنا شرعًا پسندیدہ نہیں۔ |
٢٤٧ |
لفظ فتوٰی، لفظ صحیح واصح اور اشبہ وغیرہ سے آکدہے۔ |
٢٥٥ |
|
جنائزپرتکثیرجماعت قطعًا مطلوب ہے مگر اس کے لیے تاخیر محبوب نہیں۔ |
٢٤٧ |
لفظ علیہ العمل لفظ فتوٰی کے مساوی ہے۔ |
٢٥٥ |
|
شرع مطہر میں تعجیل تجہیزبتاکیدِ تمام مطلوب ہے۔ |
٢٤٧ |
عبارت فقہاء میں کراہت صرف دوصورتوں سے متعلق ہے، ایك اسی ہیئت پربدستور صفیں باندھے وہیں کھڑے دعاکرنا، دوسرے قبل نمازخواہ بعد نمازدعائے طویل کی خاص غرض سے امرتجہیز کو تعویق میں ڈالنا۔ |
٢٥٦ |
|
ایك نمازدوسری نماز سے نہ ملاؤ یہاں تك کہ کچھ گفتگو کرلو یا اس جگہ سے ہٹ جاؤ۔ |
٢٤٩ |
ایہام زیادت مورث کراہت تنزیہیہ ہے جس کا حاصل خلاف اولٰی ہے۔ |
٢٥٦ |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع