30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
شیعہ امام سے متوفی مذکور کی نماز جنازہ پرھائی۔ کیا امام مذکور حنفی المذہب کا یہ فعل ائمہ احناف کے نزدیك جائز ہے۔ اگر ناجائز ہے تو کیا امام صاحب مذکور کا یہ فعل شرعًا قابلِ تعزیر ہے اور کیا تعزیر ہونی چاہئے؟
الجواب:
صورتِ مذکورہ میں وُہ امام سخت اشد کبیرہ گناہ کا مرتکب ہوا، اُس نے حکمِ قرآ نِ عظیم کا خلاف کیا،
|
قال اﷲ تعالٰ وَلَا تُصَلِّ عَلٰۤی اَحَدٍ مِّنْہُمۡ مَّاتَ اَبَدًا [1]۔ |
اﷲ تعالٰی فرماتا ہے: ان کے کسی مُردے کی نمازِ جنازہ کبھی نہ پڑھو۔(ت) |
تعزیر یہاں کون دے سکتا ہے، اس کی سزا حاکمِ اسلام کی رائے پر ہے، وُہ چاہتا تو پچھتر کوڑے لگاتا اور چاہتاتو قتل کرسکتا تھا کہ اُس نے مذہب کی توہین کی۔ اُس کے پیچھے نماز جائز نہیں اور اسے امامت سے معزول کرنا واجب ،تبیین الحقائق وغیرہ میں ہے :
|
لان فی تقدیمہ للامامۃ تعظیمہ وقد وجب علیھم اھانۃ شرعا[2]۔ |
اس لئے کہ اسے امام بنانے میں تعظیم ہے جبکہ شرعًا ان پر اس کی اہانت واجب ہے(ت) |
فتاوٰی حجہ و غنیہ میں ہے:لوقد موافاسقایاثمون[3] (اگر لوگوں نے کسی فاسق کو امام بنایا تو گنہگار ہوں گے۔ت)یہ سب اس صورت میں ہے کہ اس نے کسی دنیوی طمع سے ایسا کیا ہو، اگر دینی طور پر اسے کارِ ثواب اور رافضی تبرائی کو مستحق غسل ونماز جان کر یہ حرکاتِ مردودہ کیں تو وُہ مسلمان ہی نہ رہا۔ اگر عورت رکھتا ہو اس کے نکاح سے نکل گئی کہ آجکل رافضی تبرائی عمومًا مرتدین ہیں کما حققناہ فی ردالرفضۃ(جیسا کہ ہم نے اپنے رسالہ"ردالفضہ"میں اس کی تحقیق کی ہے۔ت)اوربحکم فقہائے کرام تو نفسِ تبرا کفر ہےکما فی الخلاصۃ وفتح القدیر وغیرہا کتب کثیرۃ(جیسا کہ خلاصہ اور فتح القدیر وغیرہ بہت سی کتابوں میں ہے۔ت) نہ کہ نمازِ جنازہ کما فی الاعلام وغیرہ وبیناہ فی فتاوٰنا(جیساکہ الاعلام بقواطع الاسلام میں ہے اور ہم نے اسے اپنے فتاوٰی میں بیان کیا ہے۔ت) واﷲ تعالٰی اعلم۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع