30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اگر ضروریاتِ دین کا منکر نہیں مگر تبرائی ہے تو جمہور ائمہ وفقہا کے نزدیك اس کا بھی وہی حکم ہے۔
|
کما فی خلاصۃ وفتح القدیر وتنویر الابصار والدرالمختاروالھدایۃ وغیرھا عامۃ الاسفار۔ |
جیسا کہ خلاصہ ، فتح القدیر ، تنویر الابصار ، درمختار ، ہدایہ وغیرہا عام کتب میں ہے۔ |
اور اگر صرف تفضیلیہ ہے تو اُس کے جنازے کی نماز بھی نہ چاہتے، متعدد حدیثوں میں بد مذہبوں کی نسبت ارشاد ہوا:
ان ماتوا فلا تشہدوھم [1]وُہ مریں تو ان کے جنازہ پر نہ جائیں۔ولاتصلواعلیہم[2]انکے جنازے کی نمازنہ پڑھو۔ نماز پڑھنے والوں کو توبہ استغفار کرنی چاہئے۔ اوراگر صورت پہلی تھی یعنی وہ مُردہ رافضی منکرِ بعض ضروریاتِ دین تھا اور کسی شخص نے با آں کہ اُس کے حال سے مطلع تھا دانستہ اس کے جنازے کی نماز پڑھی اُس کے لئے استغفار کی جب تو اُس شخص کی تجدید اسلام اوراپنی عورت سے ازسر نو نکاح کرنا چاہئے۔
|
فی الحلیۃ نقلاعن القرا فی واقرہ الدعاء بالمغفرۃ للکافر کفر لطلبہ تکذیب اﷲ تعالٰی فیما اخبربہ[3]۔ |
حلیہ میں قرافی سے نقل کیا اوراسے برقرار رکھا کہ: کافر کے لئے دُعائے مغفرت کفر ہے کیونکہ یہ خبر الٰہی کی تکذیب کا طالب ہے(ت) |
مسئلہ نمبر ٣٧:ازثمن برج وزیرآباد ضلع گوجرانوالا ، پنجاب ۔ مرسلہ محمد خلیل اﷲ صاحب پنشنر رسالدار، ٢٣ ربیع الاول ١٣٢٧ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین مندرجہ ذیل صُورت میں ایك شخص جو شیعہ اثناء عشری مذہب رکھتا ہے اور کلمہ لا الٰہ الاﷲ محمدرسول اﷲ علی خلیفۃ بلا فصل وغیرہ اعتقاداتِ مذہبِ شیعہ کا معتقد ہے فوت ہوا ہے اُس کا جنازہ ہمارے امام حنفی المذہب جامع مسجد مے پڑھایا اوراس کو غسل دیا، نیز اس کے ختم میں شامل ہوا، شیعہ جماعت نے امام مذکور کے نمازِ جنازہ پڑھانے کے بعد دوبارہ
[1] تاریخ بغداد ترجمہ ٤٢٤٠ الحسین بن الولید الخ دارالکتاب العربی بیروت ٨/١٤٤، سنن ابن ماجہ الحسین بن الولید الخ ایچ ایم سعیدکمپنی کراچی ص١٠۰، مسندِ اما م اعظم بیان ذم القاریۃ مطبوعہ نور محمد اصح المطابع کراچی ص١٤
[2] کنز العمال بحوالہ ابن النجار عن انس رضی اﷲ عنہ حدیث ٣٢٥٢٩ مطبوعہ موسستہ الرسالۃ بیروت ١١/٥٤٠
[3] حلیہ المحلی شرح منیۃ المصلی
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع