30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
کما حکم ھوالفاسق المصرح بہ فی غیر ماکتاب المحرر المنقح فی الغنیۃ وغیرھا۔ |
جیسا کہ یہ فاسق کا حکم ہے جس کی صراحت متعدد کتابوں میں موجود ہے اور جس کی توضیح وتنقیح غنیـہ وغیرہا میں ہوچکی ہے۔(ت) |
مگر معاملہ مرتدین پھر بھی برتنا جائز نہیں کہ یہ لوگ بھی اس گناہ سے کافر نہ ہوں گے۔ ہماری شرع مطہر صراطِ مستقیم ہے، افراط وتفریط کسی بات میں پسند نہیں فرماتی، البتہ اگر ثابت ہوجائے کہ اُنہوں نے اُسے نصرانی جان کر نہ صرف بوجہ حماقت وجہالت کسی غرض دُنیوی کی نیّت سے بلکہ خوداسے بوجہ نصرانیت مستحق تعظیم وقابل تجہیر وتکفین ونمازِ جنازہ تصور کیا تو بیشك جس جس کا ایسا خیال ہوگا وہ سب بھی کافر و مرتد ہیں اور ان سے وہی معاملہ برتنا واجب جو مرتدین سے برتا جائے اور ان کی شرکت کسی اور طرح روا نہیں، اور شریك ومعاون سب گنہگار ۔واﷲ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ نمبر ٣٦: ازلکھیم پور کھیری مکان حافظ محمد حسین سوداگر ، مرسلہ حکیم محمد تفـضل حسین صاحب ماہ جمادی الاولٰی ۱۳۱۹١٣١٩ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ اہل شیعہ کی نمازِ جنازہ پڑھنا اہلسنّت وجماعت کے لئے جائز ہے یا نہیں؟ اور اگر کسی قومِ سنّت والجماعت نے نماز کسی شیعہ کی جنازہ کی پڑھی تو اس کے لئے شرع میں کیا حکم ہے۔
الجواب:
اگر رافضی ضروریاتِ دین کا منکر ہے، مثلًا قرآن کریم میں کُچھ سوُرتیں یا آیتیں یا کوئی حرف صرف امیرا لمومنین عثمان ذی النورین غنی رضی اﷲ تعالٰی عنہ یا اور صحابہ خواہ کسی شخص کا گھٹایا ہوا مانتا ہے۔یا مولٰی علی کرم اﷲ وجہہ الکریم خواہ دیگر ائمہ اطہار کوا نبیائے سابقین علیہم الصّلٰوۃ والتسلیم میں کسی سے افضل جانتاہے۔ اور آجکل یہاں کے رافضی تبرائی عمومًا ایسے ہی ہیں اُن میں شاید ایك شخص بھی ایسا نہ نکلے جو ان عقائدِ کفریہ کا معتقدنہ ہو جب تو وہ کافر مرتدہے اور اس کے جنازہ کی نماز حرام قطعی وگناہ شدیدہے۔اﷲ عزوجل فرماتا ہے:
|
وَلَا تُصَلِّ عَلٰۤی اَحَدٍ مِّنْہُمۡ مَّاتَ اَبَدًا وَّلَاتَقُمْ عَلٰی قَبْرِہٖ ؕاِنَّہُمْ کَفَرُوۡا بِاللہِ وَرَسُوۡلِہٖ وَمَاتُوۡا وَہُمْ فٰسِقُوۡنَ ﴿۸۴﴾[1]۔ |
کبھی نماز نہ پڑھ اُن کے کسی مردے پر، نہ اس کی قبر پرکھڑا ہو، انہوں نے اﷲ ورسول کےساتھ کفر کیا اور مرتے دم تك بے حکم رہے۔ |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع