30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
ایذائے عظیم ہوگی ولاحول ولاقوۃ الّاباﷲ العلی العظیم ۔ واﷲتعالٰی اعلم ۔
مسئلہ نمبر ۳۳: سیّد محمد شاہ (پتا انگریزی میں پڑھا نہ گیا) ١٨ذیقعدہ ١٣٣٩ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایك مسلمان نے نو مسلم عورت سے عقد کیا تھا، دو٢ برس کے بعد ٢٩رمضان ١٣٣٩ھ کو دنیائے فانی سے ملك عدم کو رخصت ہوئی۔ اس مسلمان کا یہاں کوئی وارث اور نہ تھا اس نے مسلمانوں کو اطلاع دی، انہوں نے جواب دیا ہم تمہاری عورت کا جنازہ نہیں اُٹھائیں گے نہ قبرستان میں جگہ دیں گے کیونکہ تم نماز نہیں پڑھتے ہو اور مسجد کمیٹی وخلافت کمیٹی وغیرہ میں چندہ بھی نہیں دیتے کبھی ہماری کمیٹیوں میں شرکت نہیں کرتے ، لہذا تم اور کوئی انتظام کرو۔اس شخص نے جواب دیا اگر میراعذر قابلِ اعتماد ہو تو مجھ کو معافی دیجئے جو سزا میرے لئے آپ لوگ قرار دیں قبول کرتا ہوں۔ اگر میرا قصور ہے تو مجھے سزا دیں اور معافی دے کر میّت کو اٹھائیں۔ ان لوگوں نے مطلق انکار کردیا جو خلافت کمیٹی کے ممبران و سیکریٹری وپرزیڈنٹ ہیں۔ تب اُس نے ہندو سے التجا کی، اسکی بیکسی بے بسی دیکھ کر ہنود اس محلہ میں آئے اور مسلمانوں کو سمجھایا، بمشکل تمام راضی ہوئے مگر غسل دینے والی عورت کو روك دیا۔ مجبورًا اس نے اپنے ہاتھ سے غسل دیا اور کفن پہنایا۔ بعد اس کے چار پانچ مسلمان،انہوں نے کہا ہم تم پر آٹھ روپیہ جُرمانہ کرتے ہیں،اگر منظور ہو تو ہم میّت اُٹھائیں ورنہ ہم اپنے اپنے گھر جاتے ہیں۔وُہ چونکہ مصیبت زدہ تھا راضی ہوا۔ غرض صبح آٹھ بجے کی میت بارہ ١٢ بجے شب اُٹھائی گئی۔اب عرض ہے کہ آیا حدیث شریف میں یہی فرمان ہے اور خدا اور اسکے رسول کا یہی حکم ہے تو مجھے مطلع فرمائیں،اور اگر یہ حرکت مطابقِ شرع نہ ہو توان کی کیا سزا شرعًا و قانونًا ؟بینواتوجروا
الجواب:
اُن لوگوں نے سخت ظلم کیا اور شدیدجرم کیا، اگر سلطنتِ اسلام ہوتی حاکمِ اسلام اُن میں ایك ایك کو کوڑے لگاتا، قیدکرتا، اور وُہ آخرت میں عذابِ جہنم کے مستحق ہیں۔رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں :
|
الصلٰوۃ واجبۃ علیکم علی کل مسلم براکان اوفاجراوان عمل الکبائر [1]۔(ملخصًا) |
ہر مسلمان کے جنازے کی نماز تم پر فرض ہے نیك ہو یا بد، اگرچہ اس نے گناہِ کبیرہ کئے ہوں۔ |
خصوصًا جس مسلمان نے رمضان مبارك میں انتقال کیاتو وہ بحکمِ حدیث شہید ہے۔خلافت کمیٹی میں چندہ نہ دینا یا اُس میں شریك نہ ہونا کوئی جرم نہیں، بلکہ مسجد میں چندہ نہ دینا بھی گناہ نہیں، نہ کہ جہاں امر بالعکس ہو، نماز
[1] سنن ابوداؤد باب فی الغزو مع ائمۃ الجور مطبوعہ آفتاب عالم پریس لاہور ١/٣٤٣،مشکوٰۃ المصابیح بحوالہ ابی داؤد باب الامامۃ مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی ص١٠٠
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع