30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
جِنوں کی عبادت سے بہتر ہے۔ت)ولہذا فقہائے ذکر ذکر لسانی پر ترجیح دی گئی ورنہ ذکر پر تفصیل محال ہوتی و ذکر اﷲ اکبر (اور اﷲ تعالٰی کاذکر سب سے بڑھا ہوا ہے۔ت) اس نحو ذکر کے لئے صمت یعنی خاموشی بہتر ہوتی ہے، ولہذا فقہاء نے ینبغی ان یطیل الصمت (طویل سکوت اختیار کرنا چاہئے ۔ت) فرمایا، صدرِ اول میں غالبًا یہی معمول تھا یہاں تك کہ جنازہ کے ساتھ چلنے میں یہ نہ معلوم ہوتا کہ ہمارے دہنے ہاتھ پر کون اور بائیں ہاتھ پر کون، ہر شخص اپنی فکر میں مشغول ہوتا اور اپنے لئے یہ وقت آنا، اور پھر ا س وقت کیا ہوگا؟ کیسے گزرے گی ؟ اپنے اعمال کی حالت کیا ہے؟ اس دھن میں مستغرق ہونا گویا ہرشخص اس جنازہ کو اپنا ہی جنازہ جانتا، بلاشبہ اُس وقت کیا مناسب یہی حالت ہے اور اس حالت کے مناسب وہی صمتِ مطلق کہ سانس کے سوا اصلًا آواز نہ ہو۔ جب زمانہ بدلا اور صدرِ اوّل کا سا خوف عام مسلمانوں میں نہ رہا، صمت محض بہتوں کو باعث پریشانی خیالی ہوا، اطبائے قلوب نے ذکرلسانی خفی کا اضافہ فرمایا کہ ان اراد ان یذکراﷲ یذکر فی نفسہ (اگر اﷲ تعالٰی کا ذکر کرنا چاہے تو آہستہ کرے ۔ت)
اقول: اس میں حکمت یہ تھی فی نفسہٖ کوئی شہ مطلوب نہیں قولِ خیر عدم قول مطلق سے قطعًا افضل ہے ولہذا ارشاد ہوا:
|
ان لا یزال لسانك رطبا من ذکر اﷲ ١[1]۔ |
ہمیشہ تمھاری زبان خدا کے ذکر سے تر رہے ۔ (ت) |
اگر شرائع نے اُسے صوم میں رکھا تھا۔ ہماری شریعت عزانے اُسے منسوخ فرمادیا۔ محبوس کے یہاں وقت اکل صمت ہے۔ ہماری شریعت میں وہ مکروہ و لازم احتزاز ہے۔ یہاں ایك ذریعہ بعد معین مقصود ہوکر مطلوب ہُوا تھا کہ عمل لسان وجہ انقسام توجہ نہ ہو۔ اب کہ دیکھنا زمانہ بدلا، اب وہ معین ہونے کے عوض بہتوں کے لئے مخل مقصود ہونے لگا، تحصیل اصل مقصود کے لئے ذکر لسانی بتایا اور خفی رکھا سب تو ایسے پریشان خیال نہیں جہر سے اہلِ تفکر کا ذہن نہ ہٹے۔جب زمانہ اور بدلا اور عامہ ناس غالبًا اسی قسم کے رہ گئے اور فقہ میں اکثر ہی کا اعتبار ہے۔
|
ان درمستثنٰی ولایفرد بحکم ٢[2]کما فی فتح القدیر وردالمحتار وغیرھما۔ |
نادر مستثنٰی ہے اور اس کا الگ حکم بیان نہیں ہوتا، جیسا کہ فتح القدیر اورردالمحتار وغیرہما میں ہے(ت) |
اطبائے روحانی نے جہر بالذکر کی اجازت دی کہ وہ اوقع فی النفوس وادفع للوساوس وانفع للناس ہے۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع