30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
وقد بسطنا الکلام فی رسالتنا سل الحسام الہندی لنصرۃ سیدنا خالد النقشبدی١ [1]۔ |
اور ہم نے اپنے رسالہ"سل الحسام الہندی لنصرۃ سیدنا خالد النقشبندی ــ"میں تفصیل سے کلام کیا ہے۔(ت)
|
علامہ شامی کے دادا مرشد کے جنازہ میں عربی اشعار اور حضرت خواجہ بہاءالدین نقشبند رحمہ اﷲ تعالٰی کے جنازہ میں فارسی اشعار پڑھے گئے، ان اشعار کا پڑھنا جائز ہے یا نہیں؟ جائز ہے تو دلائل کیا ہیں؟ جو مکروہ تحریمی کہتے ہیں وہ علامہ شامی کی ردالمحتار ج١ ص ٩٣٢ کے اس قول کو پیش کرتے ہیں :
|
(قولہ کماکرہ الخ) قیل تحریما وقیل تنزیھا کما فی البحرعن الغایۃ وفیہ عنہا و ینبغی لمن تبع الجنازۃ ان یطیل الصمت وفیہ عن الظہیریۃ فان ارادان یذکراﷲتعالٰی یذکرہ فی نفسہ لقولہ تعالٰی انہ لایحب المعتدین ای الجاھرین بالدعاء وعن ابراہیم انہ کان یکرہ اذیقول الرجل وھویمشی معھا استغفروالہ غفراﷲلکم اھ قلت واذاکان ھذافی الدعاء والذکر فماظنك بالغناء الحدث فی ھذا الزمان[2]۔ |
(جیسا کہ مکروہ ہے) کہا گیا تحریمی، اور کہا گیا تنزیہی ، جیسا کہ بحر میں غایہ کے حوالے سے ہے اوراسی میں اس کے حوالے سے یہ بھی ہے:جنازہ کے ساتھ چلنے والے کو طول سکوت اختیار کرنا چاہئے، اور اس میں ظہیریہ کے حوالے سے ہے۔ اگر اﷲ کا ذکر کرنا چاہے تو آہستہ کرے اس لئے کہ ارشادِ باری ہے : بے شك وُہ حد سے بڑھنے والوں کو پسند نہیں فرماتا۔ یعنی وُہ جو بلند آواز سے دُعا کرتے ہیں--حضرت ابراہیم نخعی سے مروی ہے کہ جب وُہ جنازے کے ساتھ چلتے اور کوئی بولتا"اس کےلئے استغفار کر و خداتمہاری مغفرت فرمائے"توا نہیں ناگوار ہوتا اھ میں کہتاہوں جب دُعا وذکر کا یہ حکم ہے تو اس نغمہ زنی کے بارے میں تمہارا کیاخیال ہے جو اس زمانے میں پیدا ہوگئی ہے۔(ت) |
اس عبارت سے حضرت شاہ غلام علی وخواجہ بہاءالدین قدس سرہما نے جو فارسی و عربی کے اشعار اپنے جنازوں میں پڑھوائے اُن کی کراہت ثابت ہوتی ہے یا نہیں اور عدم کراہت و جواز اُن اشعارکی کیا وجہ ہے اور غناء حادثات کی کراہت کی کیا وجہ ہے، دونوں کا حکم بیان فرمائیں ، اور یہاں جنازہ کے ہمراہ یہ اشعار اردو کے بھی حضرات خوش الحانی سے پڑھتے ہیں اس اشعار کو
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع