30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
فرمودند کہ فاتحہ خواندن پیشِ جنازہ ماوکلمہ طیب و آیت شریفہ بے ادبی است ایں دو٢ بیت بخوایندہ : ؎ (١) مفلسا نیم آمدہ در کوئےتو شیئاﷲ ازجمال روئے تو (۲) دست بکشا جانبِ زنبیل ما آفرین بردست و بر پہلوئے تو من ہم میگویم پیش جنازہ من ہمیں اشعار بخدانند: ؎ (۱) وقدت علی الکریم بغیر زاد من حسنات والقلب السلیم (۲) فحملی الزاداقبح کل شیئ اذاکان الوفود علی الکریم [1] |
نے فرمایا: ہمارے جنازہ کےسامنے فاتحہ ،کلمہ طیب اورآیت شریفہ پڑھنا بے ادبی ہے یہ دو شعر پڑھنا: (۱) ہم مفلس آپ کی گلی میں آئے ہیں، خداکے لئے اپنے جمالِ رُخ کا کچھ صدقہ عطا ہو۔ (۲) ہماری جھولی کی طرف ہاتھ بڑھائیں ، آپ کے ہاتھ اور آپ کے پہلو پر آفرین ہو۔ میں بھی کہتاہوں میرے جنازہ کے سامنے یہی اشعار پڑھنا: (١) کریم کے دربار میں قلبِ سلیم اور نیکیوں کا کوئی توشہ لئے بغیر جارہا ہوں۔ (٢) کہ جب کسی کریم کے دربار میں حاضری ہو تو توشہ لے کر جانا بہت بُری بات ہے۔(ت) |
حضرت شاہ غلام علی دہلوی قدس سرہ العزیز مولانا خالد کردی کے مرشد برحق ہیں ضمیمہ مقاماتِ مظہریہ کے ص٢٩ میں مولانا خالد کردی اپنے قصیدہ میں فرماتے ہیں: ؎
|
(۱) وانالنی اعلی الماٰرب والمعنی اعنی لقاء المرشد المفضالٖ (۲) من نور الآفاق بعد ظلامھا وھدی جمیع الخلق بعدضلالٖ (٣) اعنی غلام علی القرم الذی من لحظہ یحیی الرمیم البالی [2] |
(۱) مجھے سب سے بلند مقصد وآزرو عطافرمائی۔ یعنی بڑے فضل وکرم والے مرشد کی صحبت نصیب کی۔ (۲) وہ جس نے تاریك آفاق روشن کردئے اور ساری گمراہ مخلوق کو ہدایت فرمائی۔ (٣) یعنی وُہ سردار عظیم غلام علی جس کی نظر سے بوسیدہ ہڈیوں میں جان پڑجاتی ہے۔ |
اور یہ مولانا خالد کروی علامہ شامی کے مرشد ہیں، اس کا ثبوت ردالمحتار جلد ٢صفحہ ٤٥٢ کی اس عبارت سے ہے:
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع