30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
نئی نہیں بلکہ حضور کے اس اذنِ عام سےحضور ہی کی شریعت ہے صلی ا ﷲ تعالٰی علیہ وسلم۔
(٩) فرماتے ہیں کہ شرح مطہر میں اُس سے ممانعت نہ آنا ہی اس کے جواز کی دلیل ہے۔ اگر جنازے کے ساتھ ذکر الٰہی منع ہوتا تو کم از کم ایك حدیث تو اس کی ممانعت میں آتی، جیسے رکوع میں قرآن مجید پڑھنا منع ہے، تو اسکی ممانعت کی حدیث موجود ہے، تو جس چیز سے نبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے سکوت فرمایا وہ کبھی ہمارے زمانے میں منع نہیں ہوسکتی۔
(١٠) نتیجہ یہ نکلا کہ اگر جنازے کے تمام ہمراہی بلند آواز سے کلمہ طیبّہ وغیرہا ذکرِ خدا و رسول عزو علا و صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کرتے چلیں تو کچھ اعتراض نہیں بلکہ اس کا کرنا نہ کرنے سے افضل ہے۔نیز امام نابلسی ممدوح کتاب مذکور میں فرماتے ہیں :
|
لاینبغی ان ینھی الواعظ عما قال بہ امام ائمۃ المسلمین بل ینبغی ان یقع النھی عمااجمع الائمۃ کلھم علی تحریم١ [1]۔ |
یہ نہ چایئے کہ واعظ ایسی چیز سے روکے جسے ائمہ مسلمین میں سے کسی امام نے جائز کہا ہو بلکہ ممانعت ایسے کام سے ہونا چاہئے جس کی حرمت پر سب ائمہ کا اجماع ہو۔ (ت) |
درمختار میں ہے :
|
تحریما صلوۃ مع شروق الاالعوام فلا یمنعون من فعلھا لانہم یترکونھا والاداء الجائز عندالبعض اولی من الترك کما فی القنیۃ وغیرھا٢ [2]۔اھ قلت ونقلہ سیّدی عبدالغنی فی الحدیقۃ عن شرح الدرر لابیہ عن المصفی شرح النسفیۃ عن الشیخ الامام الاستاذ حمدالدین عن شیخہ الامام الاجل جمال الدین |
سورج نکلتے وقت نماز مکروہِ تحریمی ہے مگر عوام کوا س سے منع نہ کیا جائےگا اس لئے کہ وہ نماز ہی ترك کردیں گے--جبکہ ترك سے وہ ادائیگی بہتر ہے جو بعض کے نزدیك جائز ہے جیسا کہ قنیہ وغیرہا میں ہے اھ۔ میں کہتا ہوں اسے سیدی عبدالغنی نابلسی نے حدیقہ ندیہ میں اپنے والد کی شرح درر سے نقل کیا ہے اُس میں نسفیہ کی شرح مصفی سے۔ اس میں شیخ امام استاذ حمیدالدین نقل ہے۔ انہوں نے اپنے شیخ امامِ اجل جمال الدین محبوبی سے |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع