30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
الاٰن فی الجنازۃ تجدھم مشغولین بحکایت الدنیالم یعتبروابالمیت وقلبھم غافل عن جمیع ماوقع لہ بل رأیت منھم من یضحك واذا تعارض عندنا مثل ذٰلك وکون ذٰلك لم یکن فی عھدرسول اﷲصلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم قدمنا ذکراﷲعزوجل لوصاح کل من فی الجنازۃ لاالٰہ الااﷲ فلااعتراض ولم یاتنا فی ذلك شئ من رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فلوکان ذکراﷲتعالٰی فی الجنازۃ منھیا عنہ لبلغنا ولوفی حدیث کمابلغنا فی قراءۃ القراٰن فی الرکوع وشئ سکت عنہ الشارع صلی اﷲتعالٰہ وسلم اوائل الاسلام لایمنع منہ اواخراالزمان [1]اھ باختصار قلیل |
کلمہ لاالٰہ الاﷲ محمدرسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم تو سب سے بڑی نیکی ہے پھر اس سے کیوں کر روکا جائےگا؟-- اس زمانے میں جنازے کے اندر اکثر لوگوں کےاحوال پر نظر کرو دنیاکی باتوں میں مشغول ملیں گے جنہیں میت کےحال سے کوئی عبرت نہیں، ان کا دل اس سارے واقعے سے غافل ہے، بلکہ ان میں ہسنے والے بھی نظر آئیں گے--ذکر نہ کریں تو یہ حالت اور ذکر میں مشغول ہوں تو یہ اعتراض ہے کہ یہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کے زمانہ میں نہ تھا۔ ہمارے نزدیك جب ایسا تعارض درپیش ہے تو ہم اﷲ کے ذکر کو مقدم رکھیں گے--اب اگر سارے شرکاءِ جنازہ پکار کر لاالٰہ الاﷲ کہیں تو اس پر کوئی اعتراض نہیں۔ اس سے ممانعت میں رسول اﷲ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کا کوئی ارشاد وارد نہیں۔ اگر جنازے میں ذکر الٰہی ممنوع ہوتا تو کسی نہ کسی حدیث میں تو یہ حکم وارد ہوتا، جیسے رکوع میں قرآن شریف پڑھنا ممنوع ہے تو اس بارے میں حدیث آئی ہے۔ تو جس چیز سے ابتدائے اسلام میں شارع علیہ الصلٰوۃ والسلام نے سکونت فرمایا وہ ہمارے آخر زمانے میں ممنوع نہیں ہوسکتی اھ باختصار قلیل(ت) |
اس کلام جمیل امام جلیل رحمہ اﷲ تعالٰی علیہ کا خلاصہ ارشادات چند افادات :
(۱) سلف صالح کی حالت نماز جنازہ میں یہ ہوتی کہ ناواقف کو نہ معلوم ہوتا کہ ان میں اہلِ میت کون ہے۔ اور باقی ہمراہ کون، سب ایك سے مغموم و محزون نظر آتے ہیں، اور اب حال یہ ہے کہ جنازے میں دنیاوی باتوں
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع