30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
مسئلہ نمبر ١٩: از مانا دور ملك کاٹھیاواڑ مرسلہ ماسٹراسمٰعیل صاحب ٢ شوال ١٣٣٩ھ
تما م لوگ بوجہ رسم کے بالوجہ اس امر کے ملّا صاحب فرماتے ہیں ہم نہیں آئیں گے، ریشمی کپڑا یارنگ برنگ کی چادریں میت پر ڈالتے ہیں اور جب اُن سے کہا جاتا ہے تو کہتے ہیں تم لوگ ہم پر حسد کرتے ہو، مجبورًا ڈلوانا کہاں تك جائز ہے؟
الجواب:
جبر حرام ہے اور بخوشی بھی نہ ہو اگر ملّا فقیر نہیں یعنی چھپن روپے کے مال کا مالك ہے جو قرض وغیرہ میں مشغول نہیں، نیز ایك رسم بے ثبوت کا ایسا التزام نہ چاہئے جبر کرنے والا ملّا نہیں گھٹیا ہے واﷲ تعالٰی اعلم
مسئلہ نمبر۲۰: ازدلگیر گنج پرگنہ جہاں آباد ضلع پیلی بھیت مرسلہ خلیفہ الٰہی بخش ١٨رجب ١٣١٧ھ
اگر عورت مر جائے تو شوہر اس کے جنازے کو ہاتھ لگائے یا نہیں؟
الجواب:
جنازے کو محض اجنبی ہاتھ لگاتے، کندھوں پر اُٹھاتے، قبر تك لے جاتے ہیں، شوہر نے کیا قصور کیا ہے۔یہ مسئلہ جاہلوں میں محض غلط مشہور ہے۔ہاں شوہر کو اپنی زنِ مردہ کا بدن چھونا جائز نہیں، دیکھنے کی اجازت ہے کمانص علیہ فی التنویر والدروغیرھما(جیسا کہ تنویرا لابصار اور درمختار وغیرہما میں اسکی تصریح ہے۔ت)اجنبی کو دیکھنے کی بھی اجازت نہیں۔محارم کو پیٹ، پیٹھ اور ناف سے زانوتك کے سوا چھونے کی بھی اجازت ہے۔واﷲ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ نمبر۲۱: زوجہ کا جنازہ شوہر کو چھونا کیسا ہے؟ چھونا چاہئے یا نہیں؟ شوہر کا اپنی زوجہ کا منہ قبر میں رکھنے کے بعددیکھنا کیسا ہے ،چاہئے یا نہیں؟
الجواب:
شوہر کو بعد انتقال زوجہ قبر میں خواہ بیرونِ قبر اس کا منہ یا بدن دیکھنا جائز ہے، قبر میں اتارنا جائز ہے، اور جنازہ تو محض اجنبی تك اٹھاتے ہیں، ہاں بغیر حائل کے اس کے بدن کو ہاتھ لگانا شوہر کو ناجائز ہوتا ہے۔ زوجہ کو جب تك عدت میں رہے شوہر مردہ کا بدن چھونا بلکہ اسے غسل دینا بھی جائز رہتا ہے۔یہ مسئلہ درمختار وغیرہ میں ہے۔واﷲ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ نمبر ۲۲ : ۶ ربیع الثانی ١٣١٧ھ
ہندوستان کے لوگوں کا دستور ہے کہ جب عورت کی حالتِ نزع ہوتی ہے تب اُس کے شوہر کو اُس کے پاس نہیں جانے دیتے اور اس کا شوہر حالتِ نزع میں اُس کے پاس نہیں جاتا اُس عورت کی تکفین وتدفین
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع