30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
میں رکھتے ہیں، اور جنازہ کی
چھتری پر غلاف ڈال کے مُردے کے واسطے شال اور عورت کے واسطے دامنی ڈالا کرتے ہیں
اورپھر اس شال یا دامنی کو پھولوں کی ایك چادر بنا کر ڈالتے ہیں تو آیا یہ امر
واسطے مرد کے کرنا شرعًا جائز ہے یانہیں؟ بینواتوجروا
الجواب
جنازہ زنان پر چھتری یا گہوارہ بنا کر غلاف وپردہ ڈالنا مستحب وماثور ہے، ایسا ہی چاہئے، اور جنازہ مرداں میں نہ اس کی حاجت نہ سلف سے عادت ۔ہاں بارش یا دھوپ وغیرہ کی شدت سے بچانے کو بنائیں تو کچھ حرج نہیں، فی کشف الغطاء (کشف الغطاء میں ہے):
|
اولٰی آنست کہ پوشیدہ شود جنازہ زنان را ومستحسن داشتہ اند گرفتن صندوق رابرائے وے نہ بروئے مرد۔ مگر آن کہ ضرورتے داعی باشد چون خوفِ باران وبرف وشدّتِ گرماونحوآن[1]۔ |
عورتوں کے جنازہ کو چھپادینا بہتر ہے اور اس کے لئے صندوق بنانا علماء نے مستحسن قرار دیا ہے مرد کے لئے نہیں، مگر یہ کوئی ضرورت داعی ہو بارش اور برف کا اندیشہ ہو یا سخت گرمی وغیرہ ہو۔(ت) |
اور دوشالہ وغیرہ بیش بہا کپڑے ڈالنے سے اگر ریاء وتفاخر ہو تو وہ حرام ہے نہ کہ خاص معاملہ میت واولین منازل آخرت میں، اوراگر زینت مراد ہو تو وہ بھی مکروہ۔
|
فی الشامیہ عن الطحطاویۃ ویکرہ فیہ کل ماکان للزینۃ[2]۔ |
شامی میں طحطاوی کے حوالے سے ہےـ: اس میں وُہ سب مکروہ ہے جو زینت کے لئے ہو۔(ت) |
ہاں تصدق منظور ہو تو بے شك محمود۔ مگر تصدق کچھ اس طرح اس پر موقوف نہیں کہ جنازہ پر ڈال ہی کر دیں۔ یونہی پھولوں کی چادر بہ نیتِ زینت مکروہ، اور اگر اس قصد سے ہو کہ وہ بحکم احادیث خفیف الحل وطیب الرائحہ ومسبحِ خداومونسِ میّت ہے تو حرج نہیں۔
|
کما فی القبور ففی الھندیۃ وغیرھا وضع الورد والریاحین علی القبور حسن[3]الخ واﷲتعالٰی اعلم۔ |
جیسے قبروں میں کہ ہندیہ وغیرہا میں ہے : قبروں پر گلاب وغیرہ کے پھول رکھنا اچھا ہے الخ واﷲ تعالٰی اعلم (ت) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع