30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
پھول ڈالنا کہ وہ جب تك تر ہیں تسبیح کرتے ہیں اس سے میّت کا دل بہلتا ہے اور رحمت اترتی ہے۔فتاوٰی عالمگیری میں ہے :
|
ضع الورد والریاحین علی القبورحسن١[1]۔ |
قبروں پر گلاب اور پھولوں کا رکھنا اچھا ہے۔(ت) |
فتاوٰی امام قاضی خان و امداد الفتاح شرح المصنف لمراقی الفلاح و ردالمحتار علی الدرالمختار میں ہے :
|
انہ مادام رطبایسبح فیؤنس المیت وتنزل بذکرہ الرحمۃ [2]۔ |
پھول جب تك تر رہے تسبیح کرتا رہتا ہے جس سے میت کواُنس حاصل ہوتا ہے اور اس کے ذکر سے رحمت نازل ہوتی ہے۔(ت) |
یونہی تبرك کے لئے غلافِ کعبہ معظمہ کا قلیل ٹکڑا سینے یا چہرے پر رکھنا بلا شبہہ جائز ہے اوراسے رواجِ روافض بتانا محض جھوٹ ہے۔ اسدالغابہ وغیرہا میں ہے :
|
لما حضرہ الموت اوصی ان یکفن فی قمیص کان علیہ افضل الصلٰوۃ والسلام کساہ ایاہ، وان جعل ممایلی جسدہ، وکان عندہ قلامۃ اظفارہ علیہ افضل الصلٰوۃ والسلام فاوصی ان تسحق وتجعل فی عینیہ وفمہ، وقال افعلوا ذلك وخلوبینی وبین ارحم الراحمین[3]۔ |
جب حضرت امیر معاویہ کا آخری وقت آیا وصیت فرمائی کہ اُنہیں اُس قمیص میں کفن دیا جائے جونبی اکرم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے انہیں عطافرمائی تھی ، اوریہ ان کے جسم سے متصل رکھی جائے، ان کے پاس حضور اقدس صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کے ناخن پاك کے کچھ تراشے بھی تھے ان کے متعلق وصیت فرمائی کہ باریك کرکے ان کی آنکھوں اوردہن پر رکھ دئے جائیں۔فرمایا کہ یہ کام انجام دینا اور مجھے ارحم الراحمین کے سپرد کردینا(ت)۔ |
مسئلہ نمبر١٨: از سورت اسٹیشن سائن، موضع کٹھور، مرسلہ مولوی عبدالحق صاحب ٢١جمادی الاولٰی ١٣٠٩ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں یہاں رواج ہے کہ شخص میت کو بعد تغسیل وتکفین کے جنازے
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع