30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
والغنی والجاہ والدخول علی السلاطین تشد علی الفخذ الیمنی والعسر الولادۃ تشد علی فخذھا الا یسر، ولحفظ المال و الرکوب فی البحر والنجاہ من القتل[1]۔ |
اور حصول تونگری ووجاہت اور سلاطین کے پاس جانے کے لئے دہنی ران پر باندھیں، اور دشواری ولادت کے لئے عورت کی بائیں ران پر ،نیز حفاظت مال اور دریا کی سواری اور قتل سے نجات کے لئے۔ |
امام ابن حجرمکی صواعق محرقہ میں نقل فرماتے ہیں : جب امام علی رضا رضی اﷲ تعالٰی عنہ نیشاپور میں تشریف لائے، چہرہ مبارك کے سامنے ایك پردہ تھا، حافظانِ حدیث امام ابوذراعہ رازی و امام محمد بن اسلم طوسی اوران کے ساتھ بیشمار طالبانِ علم وحدیث حاضرِ خدمتِ انور ہوئے اور گڑگڑا کر عرض کیا اپنا اجمالِ مبارك ہمیں دکھائیےے اور اپنے آبائے کرام سے ایك حدیث ہمارے سامنے روایت فرمائیے، امام نے سواری روکی اور غلاموں کو حکم فرمایا پردہ ہٹالیں خلقِ خدا کی آنکھیں جمال مبارك کے دیدار سے ٹھنڈی ہوئیں۔ د و٢ گیسو شانہ مبارك پر لٹك رہے تھے۔ پردہ ہٹتے ہی خلق خدا کی وہ حالت ہوئی کہ کوئی چلّاتاہے، کوئی روتا ہے، کوئی خاك پر لوٹتا ہے، کوئی سواری مقدس کا سُم چومتا ہے۔ اتنے میں علماء نے آواز دی :خاموش سب لوگ خاموش ہورہے۔ دونوں امام مذکور نے حضور سے کوئی حدیث روایت کرنے کو عرض کی حضور نے فرمایا:
|
حدثنی ابوموسی الکاظم عن ابیہ جعفر الصادق عن ابیہ محمدن الباقرعن ابیہ زین العابدین عن ابیہ الحسین عن ابیہ علی ابن ابی طالب رضی اﷲ تعالٰی عنھم قال حدثنی حبیبی وقرۃ عینی رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم قال حدثنی جبریل قال سمعت رب العزۃ یقول لا الٰہ الااﷲ حصنی فمن قال دخل حصنی امن من عذابی[2]۔ |
یعنی امام علی رضا امام موسٰی کاظم وہ امام جعفر صادق وہ امام محمدباقر وہ امام زین العابدین وہ امام حسین وہ علی المرتضٰی رضی اﷲ تعالٰی عنہم سے روایت فرماتے ہیں کہ میرے پیارے میری آنکھوں کی ٹھنڈك رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے مجھ سے حدیث بیان فرمائی کہ ان سےجبریل نے عرض کی کہ میں نے اﷲ عزوجل کو فرماتے سنا کہ لا الٰہ الااﷲ میراقلعہ ہے تو جس نے اسے کہا وہ میرے قلعہ میں داخل ہوا، میرے عذاب سے امان میں رہا۔ |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع