30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
تعالٰی عنہ مرجحۃ لقول الجواز ان فرضنا المساواۃ والا فلانسلمھا من الاصل فان الکتابۃ علی المحاریب والجدران انما یکون المقصود بھاغالبا الزینۃ ولیست من الحاجۃ فی شیئ فالمنع ثمہ لایستلزم المنع حیث الحاجۃ ماسۃ کالتمییز والتبرك والتوسل للنجاۃ باذن اﷲتعالٰی فافھم واﷲ سبحانہ وتعالٰی اعلم ۔ |
لکھی جانے والی تحریر معہود و معلوم سے قولِ جوازکو ترجیح ہونی چاہئے -- اگر دونوں تحریروں میں ہم مساوات مانیں-- ورنہ اسے ہم سرے سے نہیں مانتے اس لئے کہ محرابوں اور دیواروں پر لکھنے سے عمومًا زینت مقصود ہوتی ہے۔ یہ کوئی حاجت کی چیز ہی نہیں— تو اگر اس میں ممانعت ہے تو یہ اس کو مستلزم نہیں کہ وہاں بھی ممانعت ہو جہاں حاجت ہے جیسے امتیاز پیدا کرنا، برکت حاصل کرنا، باذنِ الٰہی نجات کا وسیلہ بنانا— تو اسے سمجھو-- اور خدائے پاك بزرگ و برتر خوب جاننے ولا ہے (ت) |
مقام چہارم : جب خود کفن پر ادعیہ وغیرہ تبرکًا لکھنے کا جواز فقہًا و حدیثًا ثابت ہے تو شجرہ شریف رکھنا بھی بداہۃً اسی باب سے بلکہ بالاولٰی ،اوّل تو اسمائے محبوبانِ خدا علیہم التحیۃ والثناء سے توسل و تبرك بلاشبہہ محمود ومندوب ہے۔ تفسیرِ طبری پھر شرح مواہبِ لدنیہ للعلامۃ الزرقانی میں ہے :
|
اذاکتب اسماء اھل الکھف فی شیئ والقی فی النار اطفئت [1]۔ |
جب اصحابِ کہف کے نام لکھ کر آگ میں ڈالے جائیں توآگ بجھ جاتی ہے۔ |
تفسیر نیشاپوری علامہ حسن محمد بن حسین نظام الدین میں ہے :
|
عن ابن عباس ان اسماء اصحاب الکہف یصلح للطلب والھرب واطفاء الحریق تکتب فی خرقہ ویرمی بھافی وسط النار ، ولبکاء الطفل تکتب و توضع تحت راسہ فی المھد ، وللحرث تکتب علی القرطاس وترفع علٰی خشب منصوب فی وسط الزرع و للضربان وللحمی المثلثۃ والصداع |
یعنی عبداﷲ بن عباس رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے روایت ہے کہ اصحابِ کہف کے نام تحصیل نفع ودفع ضرراورآگ بجھانے کے واسطے ایك پرچی پر لکھ کر آگ میں ڈال دیں، اور بچّہ روتا ہو لکھ کر گہوارے میں اس کے سر کے نیچے رکھ دیں، اورکھیتی کی حفاظت کے لئے کاغذ پر لکھ کر بیچ کھیت میں ایك لکڑی گاڑ کر اُس پر باندہ دیں، اور رگیں تپکنے اور باری والے بخار اور دردِسر |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع