30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
فان قلت التجنیس فی الابل غیر مقطوع بہ حتی فی اجانب الانسی من افخاذھالانھاتتفاج حین تبول فکیف بالوحشی المکتوب علیہ قلت لاقطع فی التکفین ایضافلیس کل جسدیبلی فان الاولیاء والعلماء العالمین والشھداء والمؤذن المحتسب وحامل القراٰن العامل بہ والمرابط والمیت بالطاعون صابرامحتسباوالمکثرمن ذکراﷲتعالٰی لاتتغیر ابدانھم[1] نقلہ العلامۃ الزرقانی فی شرح المؤطامن جامع الجنائز وجعلہم عشرۃ کاملۃ بذکرالانبیاء علیھم الصلٰوۃ والسلام ثم الصدیقین والمحبین ﷲتعالٰی وجمعت ھذین فی قول الاولیاء ۔ثم تقیید المؤذن بالمحتسب ھو نص حدیث اخرجہ الطبرانی عن عبداﷲ بن عمرو رضی اﷲ تعالٰی عنھما عن النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم قال المؤذن المحتسب کالشہید(المشتحط) فی دمہ و اذا مات لم یدود فی قبرہ[2] |
اگر یہ کہیے کہ اونٹوں میں آلودگیِ نجاست کا یقین نہیں خواہ پالتو اونٹ کی ران کے پہلو پر لکھائی ہو کیونکہ اونٹ پیشاب کرتے وقت اپنی ٹانگوں کو کھول لیتا ہے تو کھلے جنگل میں رہنے والے جانوروں پرلکھائی میں کیسے یقین ہوسکتی ہے--میں کہوں گا کفن دینے میں بھی یہ یقینی نہیں، اس لئےکہ ہر جسم بوسیدہ نہیں ہوتا اولیاء، باعمل علماء، شہداء، طالبِ ثواب مؤذن، باعمل حافظِ قرآن، سرحد کا پاسبان، طاعون میں صبر کے ساتھ اور اجر چاہتے ہوئے مرنے والا، کثرت سے اﷲ کا ذکر کرنے والا، ان کے بدن بگڑتے نہیں اسےعلامہ زرقانی نےشرح مؤطا میں جامع الجنائز سے نقل کیا اور انبیاء علیہم الصلٰوۃ والسلام پھر صدیقین اورخدا کے محبین کو ذکر کرکے ان کی تعداد کامل دس کردی ہے--اور میں نے ان دونوں قسموں کو لفظ اولیاء میں شامل کردیا ۔مؤذن کے ساتھ محتسب (طالب ثواب)کی قید بتصریحِ حدیث ثابت ہے۔ طبرانی نے عبداﷲ بن عمرو رضی اﷲ تعالٰی عنہما سے ، انہوں نے نبی کریم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم سے روایت کی ہے کہ سرکار نے فرمایا : موذّنِ محتسب اپنے خون میں آلودہ شہید کی طرح ہے جب وہ مرتا ہے تو قبر کے |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع